صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
سحری تک وصال کرنا جائز ہے اگرچہ (مغرب کے وقت) جلدی افطاری کرنا افضل ہے
حدیث نمبر: 2073
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ , أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ , أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ الشَّرْعَبِيُّ , عَنِ ابْنِ الْهَادِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، يَعْنِي: مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ فِي الْوِصَالِ. قَالَ: " فَأَيُّكُمْ وَاصَلَ مِنْ سَحَرٍ إِلَى سَحَرٍ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی وصال کے بارے میں حدیث کی مثل حدیث بیان کرتے ہیں۔ فرمایا: ”تو تم میں سے کس نے سحری سے سحری تک وصال کیا ہے (مسلسل روزہ رکھا ہے)۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2073]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1963، 1967، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2073، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3577، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2361، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1747، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8466، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11212»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2073 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2073
فوائد:
یہ حدیث دلیل ہے کہ نفل روزوں میں سحری سے لے کر سحری تک وصال امت کے لیے مشروع ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ روزہ دار سحری کرے۔ پھر افطاری وغیرہ چھوڑ دے اور آئندہ روز دوبارہ سحری کر کے روزہ رکھ لے۔ یہ صورت جائز و مباح ہے۔
یہ حدیث دلیل ہے کہ نفل روزوں میں سحری سے لے کر سحری تک وصال امت کے لیے مشروع ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ روزہ دار سحری کرے۔ پھر افطاری وغیرہ چھوڑ دے اور آئندہ روز دوبارہ سحری کر کے روزہ رکھ لے۔ یہ صورت جائز و مباح ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2073]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2073 in Urdu
عبد الله بن خباب الأنصاري ← أبو سعيد الخدري