صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ ماہ رمضان کے روزے فرض ہو جانے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشوراء کا روزہ چھوڑنا آپ کی مرضی پر منحصر تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ نے اسے ہر حال میں بالکل چھوڑ دیا تھا۔ بلکہ آپ چاہتے تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر چاہتے تو اس کا روزہ رکھ لیتے
حدیث نمبر: 2082
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنِي نَافِعٌ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: كَانَ عَاشُورَاءُ يَوْمًا يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ , فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ، سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ , فَقَالَ: " يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّهِ , فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ , وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عاشوراء کے دن اہل جاہلیت روزہ رکھا کرتے تھے۔ پھر جب رمضان المبارک کی فرضیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا۔ تو آپ نے فرمایا: ”یہ اللہ تعالیٰ کے دنوں میں سے ایک دن ہے۔ لہٰذا جو شخص روزہ رکھنا چاہے وہ رکھ لے اور جو چاہے روزہ نہ رکھے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2082]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1892، 2000، 4501، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1126، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2082، 2094، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3622، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2443، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1803، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1737، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8501، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4569»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان عبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبت | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← عبيد الله بن عمر العدوي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2082 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي