صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
ایام تشریق میں روزے رکھنے کی صریح ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2149
أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ أَبَاهُ ، وَشُعَيْبًا أَخْبَرَاهُمْ، قَالا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عُقَيْلٍ، أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَعَبْدُ اللَّهِ عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَذَلِكَ الْغَدَ أَوْ بَعْدَ الْغَدِ مِنْ يَوْمِ الأَضْحَى، فَقَرَّبَ إِلَيْهِمْ عَمْرٌو طَعَامًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو : أَفْطِرْ ؛ فَإِنَّ هَذِهِ الأَيَّامَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُ بِفِطْرِهَا، وَيَنْهَى عَنْ صِيَامِهَا" . فَأَفْطَرَ عَبْدُ اللَّهِ، فَأَكَلَ وَأَكَلْتُ مَعَهُ
حضرت عقیل کے آزاد کردہ غلام ابومرہ سے روایت ہے کہ وہ اور حضرت عبداللہ، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عید الاضحٰی کے دوسرے یا تیسرے دن حاضر ہوئے، تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے اُنہیں کھانا پیش کیا تو حضرت عبداللہ نے عرض کی کہ میں روزے سے ہوں تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا کہ روزہ کھول لو۔ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں میں روزہ نہ رکھنے کا حُکم دیتے تھے اور ان دنوں کا روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔ اس پر حضرت عبداللہ نے روزہ کھول لیا اور کھانا کھالیا اور میں نے بھی اُن کے ساتھ کھانا کھایا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2149]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 1395، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2149، 2961، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1594، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2912، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2418، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1808، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8350، 8552، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18045»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2149 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2149
فوائد:
➊ ◈ ایامِ تشریق میں روزے رکھنا حرام ہیں، شافعی، ابن منذر اور ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔
➋ ◈ مالک، اوزاعی، اسحاق اور شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ حجِ تمتع کرنے والا اگر قربانی نہ پاتا ہو تو اس کے سوا ایامِ تشریق کے روزے کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں ہیں۔
➌ ایامِ تشریق میں کثرت سے ذکر و اذکار اور تکبیرات کہنا مستحب فعل ہے۔ [شرح النووي: 17/8]
➊ ◈ ایامِ تشریق میں روزے رکھنا حرام ہیں، شافعی، ابن منذر اور ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔
➋ ◈ مالک، اوزاعی، اسحاق اور شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ حجِ تمتع کرنے والا اگر قربانی نہ پاتا ہو تو اس کے سوا ایامِ تشریق کے روزے کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں ہیں۔
➌ ایامِ تشریق میں کثرت سے ذکر و اذکار اور تکبیرات کہنا مستحب فعل ہے۔ [شرح النووي: 17/8]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2149]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2149 in Urdu
يزيد مولى عقيل ← عمرو بن العاص القرشي