🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
عمر بھر روزہ رکھنے کی ممانعت کی علت ذکر کیے بغیر اس کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2150
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَامَ الدَّهْرَ مَا صَامَ، وَمَا أَفْطَرَ، أَوْ لا صَامَ وَلا أَفْطَرَ"
جناب مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عمر بھر روزے رکھے اُس نے نہ روزے رکھے اور نہ روزے چھوڑے - یا اُس نے نہ روزے رکھے اور نہ روزے چھوڑے - [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2150]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2150، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3583، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1595، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2379، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1705، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16562»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن الشخير الحرشيصحابي
👤←👥مطرف بن عبد الله الحرشي، أبو عبد الله
Newمطرف بن عبد الله الحرشي ← عبد الله بن الشخير الحرشي
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← مطرف بن عبد الله الحرشي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود
Newأبو داود الطيالسي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة حافظ غلط في أحاديث
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← أبو داود الطيالسي
ثقة متقن
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2150 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2150
فوائد:
➊ سال بھر کے مسلسل روزے رکھنا مکروہ فعل ہے۔ [فتح الباري: 6/250]
➋ مسلسل روزے رکھنے سے بدنِ انسانی میں پیدا ہونے والے ضعف کے سبب اس عمل میں دوام باقی نہیں رہتا اور انسان اکتاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ بالخصوص بڑھاپے میں تو یہ عمل مشکل بن جاتا ہے۔ لہٰذا اعمال میں اعتدال بہتر ہے۔
➌ زمانہ بھر کے روزے اس لیے مکروہ ہیں کہ یہ مشقت، ضعف اور بیویوں سے کٹ جانے کا باعث ہیں۔ [المغني: 6/182]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2150]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2150 in Urdu