🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

ایام تشریق میں روزے رکھنے کی صریح ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2148
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ: دَعَا أَعْرَابِيًّا إِلَى طَعَامِهِ، وَذَلِكَ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ، فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي: " يَنْهَى عَنْ صِيَامِ هَذِهِ الأَيَّامِ"
حضرت مطلب سے مروی ہے کہ اُنہوں نے عیدالاضحیٰ کے دن کے بعد ایک اعرابی کو کھانے کی دعوت دی اعرابی کہنے لگا کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ تو حضرت مطلب نے فرمایا کہ بیشک میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دنوں کا روزہ رکھنے سے منع کرتے ہیں سوئے سنا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2148]
تخریج الحدیث: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2149
أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ أَبَاهُ ، وَشُعَيْبًا أَخْبَرَاهُمْ، قَالا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عُقَيْلٍ، أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَعَبْدُ اللَّهِ عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَذَلِكَ الْغَدَ أَوْ بَعْدَ الْغَدِ مِنْ يَوْمِ الأَضْحَى، فَقَرَّبَ إِلَيْهِمْ عَمْرٌو طَعَامًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو : أَفْطِرْ ؛ فَإِنَّ هَذِهِ الأَيَّامَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُ بِفِطْرِهَا، وَيَنْهَى عَنْ صِيَامِهَا" . فَأَفْطَرَ عَبْدُ اللَّهِ، فَأَكَلَ وَأَكَلْتُ مَعَهُ
حضرت عقیل کے آزاد کردہ غلام ابومرہ سے روایت ہے کہ وہ اور حضرت عبداللہ، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عید الاضحٰی کے دوسرے یا تیسرے دن حاضر ہوئے، تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے اُنہیں کھانا پیش کیا تو حضرت عبداللہ نے عرض کی کہ میں روزے سے ہوں تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا کہ روزہ کھول لو۔ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں میں روزہ نہ رکھنے کا حُکم دیتے تھے اور ان دنوں کا روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔ اس پر حضرت عبداللہ نے روزہ کھول لیا اور کھانا کھالیا اور میں نے بھی اُن کے ساتھ کھانا کھایا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2149]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں