صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
عمر بھر روزہ رکھنے کی ممانعت کی علت ذکر کیے بغیر اس کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2150
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَامَ الدَّهْرَ مَا صَامَ، وَمَا أَفْطَرَ، أَوْ لا صَامَ وَلا أَفْطَرَ"
جناب مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عمر بھر روزے رکھے اُس نے نہ روزے رکھے اور نہ روزے چھوڑے - یا اُس نے نہ روزے رکھے اور نہ روزے چھوڑے -“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2150]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2150، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3583، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1595، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2379، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1705، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16562»
حدیث نمبر: 2151
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فُلانًا لا يُفْطِرُ نَهَارَ الدَّهْرِ، قَالَ:" لا صَامَ، وَلا أَفْطَرَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: النَّهْيُ عَنِ الصَّلاةِ، قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ مَشْهُورٌ، وَأَمَّا فِي الصَّوْمِ، فَقَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ فَهُوَ غَرِيبٌ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی کہ فلاں شخص ہمیشہ دن کو روزہ رکھتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اُس نے روزے رکھے اور نہ روزے چھوڑے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ کی سند سے حضرت ابوالعالیہ سے نماز کی ممانعت کے بارے میں روایت مشہور ہے لیکن روزوں کے بارے میں ممانعت کی روایت ان کی سند سے غریب ہے (مشہور نہیں ہے)۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2151]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2151، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3582، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1596، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2378، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20139»