پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
آخری سات راتوں میں شب قدر کو تلاش کرنے کے بارے میں نبی اکرام صلی اللہ علیہ وسلم کی اس روایت کا بیان جس میں اس علت کا ذکر موجود نہیں جس کی بنا پر آپ نے دس دنوں کی بجائے صرف سات دنوں میں شب قدر کو تلاش کرنے کا حُکم دیا ہے۔
حدیث نمبر: 2182
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَرَوْنَ الرُّؤْيَا، فَيَقُصُّونَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ عَلَى السَّبْعِ الأَوَاخِرِ، فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيَهَا فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ يَحْتَمِلُ مَعْنَيَيْنِ , أَحَدُهُمَا: فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ، فَمَنْ كَانَ أَنْ يَكُونَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا عَلِمَ تَوَاطُؤَ رُؤْيَا الصَّحَابَةِ أَنَّهَا فِي السَّبْعِ الأَخِيرِ فِي تِلْكَ السَّنَةِ، أَمَرَهُمْ تِلْكَ السَّنَةَ بِتَحَرِّيهَا فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ , وَالْمَعْنَى الثَّانِي: أَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَمَرَهُمْ بِتَحَرِّيهَا وَطَلَبِهَا فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ إِذَا ضَعُفُوا وَعَجَزُوا عَنْ طَلَبِهَا فِي الْعَشْرِ كُلِّهِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ لوگ خواب دیکھتے تو اُنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے خواب آخری سات راتوں میں متفق ہوگئے ہیں۔ پس جو شخص جستجو اور تلاش کرنا چاہے تو وہ آخری سات راتوں میں شب قدر کو تلاش کرے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس روایت کے دو معنی ہوسکتے ہیں (1) آخری سات راتوں میں تلاش کرنے کے بارے میں ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوگیا کہ ان صحابہ کرام کے خواب اس سال آخری سات راتوں کے بارے میں متفق ہوگئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں اس سال آخری سات راتوں میں شب قدر تلاش کرنے کا حُکم دے دیا۔ (2) دوسرا معنی یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں آخری سات راتوں میں شب قدر کی جستجو اور تلاش کا حُکم اُس وقت دیا جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آخری مکمّل دس راتوں میں شب قدر تلاش کرنے سے عاجز آگئے اور اُنہوں نے کمزروی کا اظہار کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2182]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1156، 2015، 6991، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1165، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1141، وابن الجارود فى "المنتقى"، 445، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2182، 2183، 2222، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3675، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1385، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8621، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4586»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2182 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي