صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
رمضان المبارک کی راتوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی تعداد رکعات کا بیان
حدیث نمبر: 2213
حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي لَبِيدٍ ، سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ ، يَقُولُ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ: أَيْ أُمَّهْ، أَخْبِرِينِي عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: " كَانَتْ صَلاتُهُ بِاللَّيْلِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَفِيمَا سِوَى ذَلِكَ ثَلاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً" . هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ وَقَالَ أَبُو هَاشِمٍ: وَقَالَ أَبُو هَاشِمٍ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَقَالَتْ:" كَانَتْ صَلاتُهُ ثَلاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، مِنْهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ"
حضرت ابوسلمہ رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا، تو عرض کی کہ اماں جان، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں بتائیں تو انہوں نے فرمایا کہ آپ کی رات کی نماز رمضان المبارک اور دیگر مہینوں میں تیرہ رکعات ہی تھیں۔ یہ عبدالجبار کی روایت ہے۔ اور ابوہاشم کی روایت ہے کہ ”میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا تو میں نے اُن سے رمضان المبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ آپ کی نماز تیرہ رکعت تھی۔ ان میں دو رکعات نماز فجر کی سنّتیں ہوتی تھیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2213]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 730، 1147، 1159، 1969، 1970، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 738، ومالك فى (الموطأ) برقم: 394، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 49، 1102، 1166، 1283، 1626، 2078، 2133، 2213، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 353، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 761، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1340، 1341، والترمذي فى (جامعه) برقم: 439، 737، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1515، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 942، 1196، 1710، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 607، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24707»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2213 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2213
فوائد:
➊ ماہ رمضان المبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز تراویح گیارہ رکعت ثابت ہے اور نماز وتر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کے وقت تیرہ نوافل پڑھنا بھی ثابت ہے۔ لہٰذا نماز تراویح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ملحوظ رکھی جائے۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز وتر ایک رکعت سے لے کر تیرہ رکعت تک وتر پڑھنا ثابت ہے۔ اس سے زیادہ رات کے کئی نوافل ثابت نہیں۔ سو نیکی کے جذبے اور وفورِ شوقِ عبادت میں اس مسنون نماز تراویح سے تجاوز نہ کیا جائے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیس رکعت، تیس رکعت یا اس سے زائد عدد میں نماز تراویح ثابت نہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب بھر قیام کے دوران بھی گیارہ رکعت نماز تراویح ہی کا اہتمام کیا۔ سو قیام کو لمبا کیا جائے، نہ کہ دھڑا دھڑ نوافل ادا کرنے سے ان کی تعداد چالیس پچاس تک پہنچا دیں۔
➊ ماہ رمضان المبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز تراویح گیارہ رکعت ثابت ہے اور نماز وتر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کے وقت تیرہ نوافل پڑھنا بھی ثابت ہے۔ لہٰذا نماز تراویح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ملحوظ رکھی جائے۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز وتر ایک رکعت سے لے کر تیرہ رکعت تک وتر پڑھنا ثابت ہے۔ اس سے زیادہ رات کے کئی نوافل ثابت نہیں۔ سو نیکی کے جذبے اور وفورِ شوقِ عبادت میں اس مسنون نماز تراویح سے تجاوز نہ کیا جائے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیس رکعت، تیس رکعت یا اس سے زائد عدد میں نماز تراویح ثابت نہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب بھر قیام کے دوران بھی گیارہ رکعت نماز تراویح ہی کا اہتمام کیا۔ سو قیام کو لمبا کیا جائے، نہ کہ دھڑا دھڑ نوافل ادا کرنے سے ان کی تعداد چالیس پچاس تک پہنچا دیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2213]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2213 in Urdu
عائشة بنت أبي بكر الصديق ← عائشة بنت أبي بكر الصديق