صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
176. (175) بَابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالشَّهَادَةِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرِّسَالَةِ وَالْعُبُودِيَّةِ،
لا الہ الہ اللہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت وعبودیت کی گواہی دینے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 223
وَنا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْمِصْرِيُّ ، نا أَسَدُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى السُّنَّةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ . ح وَأَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُبْلُغُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، إِلا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ"
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو کوئی بھی پورا وضو کرے، پھر کہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالٰی کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ تواُس کے لیے جنّت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں جس میں سے چاہے داخل ہوجائے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضول التطهير والاستحباب من غير إيجاب/حدیث: 223]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 234، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 222، 223، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1050، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 452، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 148، وأبو داود فى (سننه) برقم: 169، والترمذي فى (جامعه) برقم: 55، والدارمي فى (مسنده) برقم: 743، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 470، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 367، وأحمد فى (مسنده) برقم: 122»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 223 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 223
فوائد:
➊ وضو کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ وضو سے فارغ ہونے کے بعد ❀ «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» کہے۔
اور یہ بھی مستحب ہے کہ وہ مذکورہ دعا کے ساتھ اس دعا کو بھی ملا لے۔
❀ «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ۔
◈ نیز شافعیہ کہتے ہیں: غسل کرنے والے کے لیے بھی غسل سے فراغت کے بعد مذکورہ اذکار کا اہتمام مستحب عمل ہے۔ [شرح النووي: 120/3]
➋ ان احادیث سے یہ استدلال درست ہے کہ فرض، مستحب اور مسنون وضو کے بعد مذکورہ ادعیہ کا اہتمام مستحب فعل ہے۔
البتہ ایسے اذکار سے اجتناب کرنا چاہیے جو خود ساختہ اور احادیث صحیحہ سے ثابت نہیں ہیں۔
➊ وضو کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ وضو سے فارغ ہونے کے بعد ❀ «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» کہے۔
اور یہ بھی مستحب ہے کہ وہ مذکورہ دعا کے ساتھ اس دعا کو بھی ملا لے۔
❀ «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ۔
◈ نیز شافعیہ کہتے ہیں: غسل کرنے والے کے لیے بھی غسل سے فراغت کے بعد مذکورہ اذکار کا اہتمام مستحب عمل ہے۔ [شرح النووي: 120/3]
➋ ان احادیث سے یہ استدلال درست ہے کہ فرض، مستحب اور مسنون وضو کے بعد مذکورہ ادعیہ کا اہتمام مستحب فعل ہے۔
البتہ ایسے اذکار سے اجتناب کرنا چاہیے جو خود ساختہ اور احادیث صحیحہ سے ثابت نہیں ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 223]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 223 in Urdu
عقبة بن عامر الجهني ← عمر بن الخطاب العدوي