🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1556. ‏(‏1‏)‏ باب البيان أن إيتاء الزكاة من الإسلام بحكم الأمينين‏:‏ أمين السماء جبريل، وأمين الأرض محمد النبى صلى الله عليهما
اس بات کا بیان کہ دو امانتداروں کے حُکم سے زکاۃ ارکان اسلام میں سے ہے۔ ایک آسمانی امین جبرائیل عليه السلام ہیں اور دوسرے زمین پر (اللہ تعالیٰ کے) امین نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2244
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ . ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ . ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ يَمْشِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " مَا الإِيمَانُ؟ , قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَمَلائِكَتِهِ، وَكِتَابِهِ، وَلِقَائِهِ، وَرُسُلِهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الآخِرِ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" مَا الإِسْلامُ؟ قَالَ: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ لا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" مَا الإِحْسَانُ؟ قَالَ: الإِحْسَانُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ عَنِ أَشْرَاطِهَا: إِذَا وَلَدَتِ الأَمَةُ رَبَّهَا يَعْنِي السَّرَارِيَّ، فَقَالَ: فَذَلِكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا: وَإِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ الْبَهْمِ فِي الْبُنْيَانِ، فَذَلِكَ أَشْرَاطُهَا، وَإِذَا صَارَ الْعُرَاةُ الْحُفَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ، فَذَلِكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ لا يَعْلَمُهُنَّ إِلا اللَّهُ، ثُمَّ تَلا: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ سورة لقمان آية 34 إِلَى آخِرِ السُّورَةِ، ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا جِبْرِيلُ يُعَلِّمُ النَّاسَ دِينَهُمْ" ، هَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبُو حَيَّانَ هَذَا اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ التَّيْمِيُّ تَيْمُ الرَّبَابِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس درمیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے باہر) لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے جب ایک شخص چلتے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تُو اللہ تعالیٰ، اُس کے فرشتوں، اُس کی کتاب، اُس کی ملاقات اور اُس کے رسولوں پر ایمان لائے اور تُو آخرت کے دن اُٹھنے پر یقین رکھے۔ اُس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تُو اللہ کی عبادت کرے اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے، اور نماز قائم کرے اور تُو فرض زکاۃ ادا کرے اور رمضان المبارک کے روزے رکھے۔ اُس نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، احسان کی حقیقت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تُو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے کہ گویا تُو اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے کیونکہ اگر تُو اُسے دیکھ نہیں رہا تو بلاشبہ وہ تو تجھےدیکھ رہا ہے۔ اُس نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول، قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص سے قیامت کے بارے میں پوچھا، جارہا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ لیکن میں تمہیں اس کی نشانیاں بتا دیتا ہوں۔ جب لونڈی اپنے مالک کو جنے گی تو یہ قیامت کی نشانی ہوگی اور جب بکریوں کے چرواہے بلند وبالا عمارات بنانے میں فخر و غرور کا اظہار کریں گے تو یہ قیامت کی نشانی ہوگی اور جب ننگے بدن، ننگے پاؤں چلنے والے (فقراء) لوگوں کے سردار بن جائیں گے تو یہ قیامت کی نشانی ہوگی۔ قیامت کا علم ان پانچ چیزوں میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے یا آیت تلاوت فرمائی «‏‏‏‏إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» ‏‏‏‏ [ سورة لقمان: 34 ] بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے اور وہی بارش نازل کرتا ہے اور وہی جانتا ہے جو ماؤں کے پیٹوں میں ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بیشک اللہ خوب جاننے والا پوری طرح باخبر ہے۔ پھر وہ شخص پشت پھیر کر چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جبرائیل عليه السلام ہیں، لوگوں کو اُن کا دین سکھانے آئے تھے یہ روایت جناب محمد بن بشر کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/زكوٰة كے احكام و مسائل/حدیث: 2244]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو زرعة بن عمرو البجلي، أبو زرعة
Newأبو زرعة بن عمرو البجلي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد التيمي، أبو حيان
Newيحيى بن سعيد التيمي ← أبو زرعة بن عمرو البجلي
ثقة
👤←👥محمد بن بشر العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن بشر العبدي ← يحيى بن سعيد التيمي
ثقة حافظ
👤←👥عبدة بن عبد الله الخزاعي، أبو سهل
Newعبدة بن عبد الله الخزاعي ← محمد بن بشر العبدي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد التيمي، أبو حيان
Newيحيى بن سعيد التيمي ← عبدة بن عبد الله الخزاعي
ثقة
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← يحيى بن سعيد التيمي
ثقة ثبت
👤←👥موسى بن عبد الرحمن الكندي، أبو عيسى
Newموسى بن عبد الرحمن الكندي ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد التيمي، أبو حيان
Newيحيى بن سعيد التيمي ← موسى بن عبد الرحمن الكندي
ثقة
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← يحيى بن سعيد التيمي
ثقة
👤←👥يوسف بن موسى الرازي، أبو يعقوب
Newيوسف بن موسى الرازي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن سعيد التيمي، أبو حيان
Newيحيى بن سعيد التيمي ← يوسف بن موسى الرازي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← يحيى بن سعيد التيمي
ثقة حجة حافظ
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم العبدي ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة