صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1615. (60) باب استسلاف الإمام المال لأهل سهمان الصدقة ورده ذلك من الصدقة إذا قبضت بعد الاستسلاف
امام زکوٰۃ کے مستحقین کے لیے مال قرض لے سکتا ہے اور زکوٰۃ کی وصولی کے بعد یہ قرض ادا کردے گا
حدیث نمبر: 2332
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الأَزْهَرِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ الْجَارُودِ بْنِ مِرْدَاسِ بْنِ هُرْمُزَانَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا، فَقَالَ: إِذَا جَاءَتِ الصَّدَقَةُ قَضَيْنَا، فَلَمَّا جَاءَتِ الصَّدَقَةُ، قَالَ لأَبِي رَافِعٍ:" أَعْطِ الرَّجُلَ بَكْرَهُ"، فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ إِلا رُبَاعًا أَوْ صَاعِدًا، فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَعْطِهِ فَإِنَّ خَيْرَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے جوان اونٹ قرض لیا اور فرمایا: ”جب زکٰوۃ کا مال آئیگا تو ہم تمہیں ادا کر دیںگے۔“ پھر جب زکوٰۃ کا مال آیا تو آپ نے سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اس آدمی کو جوان اونٹ دے دو۔“ تو میں نے اونٹ دیکھے تو ان میں چار دانتوں والے یا اس سے زائد عمر کے اونٹ تھے۔ تو میں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی (کہ مطلوبہ عمر کا اونٹ موجود نہیں سب اس سے بڑی عمر کے اونٹ ہیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے وہی دے دو کیونکہ لوگوں میں بہترین شخص وہ ہے جو ان میں قرض کی ادا ئیگی کے لحاظ سے بہتر ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الحبوب والثمار/حدیث: 2332]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1600، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2506، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2332، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4631، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3346، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1318، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2607، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2285، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7458، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27825»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2332 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2332
فوائد:
➊ قرض لینا جائز ہے اور قرض میں حیوانات لینا بھی جائز ہے۔
➋ حیوان کے عوض پیشگی حیوان لینا جائز ہے اور یہ قرض ہی کے حکم میں شامل ہے۔
➌ مقروض کا قرض کی ادائیگی میں قرض سے عمدہ چیز لوٹانا افضل عمل ہے۔ اور یہ سنت اور مکارمِ اخلاق میں سے ہے۔ یہ ایسے قرض کی قبیل سے نہیں جس کا نفع حاصل کیا جاتا ہو۔ ایسا قرض جس سے نفع حاصل کیا جائے حرام ہے۔ [شرح النووي: 475/5]
➊ قرض لینا جائز ہے اور قرض میں حیوانات لینا بھی جائز ہے۔
➋ حیوان کے عوض پیشگی حیوان لینا جائز ہے اور یہ قرض ہی کے حکم میں شامل ہے۔
➌ مقروض کا قرض کی ادائیگی میں قرض سے عمدہ چیز لوٹانا افضل عمل ہے۔ اور یہ سنت اور مکارمِ اخلاق میں سے ہے۔ یہ ایسے قرض کی قبیل سے نہیں جس کا نفع حاصل کیا جاتا ہو۔ ایسا قرض جس سے نفع حاصل کیا جائے حرام ہے۔ [شرح النووي: 475/5]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2332]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2332 in Urdu
عطاء بن يسار الهلالي ← أبو رافع القبطي