🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1620. ‏(‏65‏)‏ باب ذكر البيان أن ما كتم الساعي من قليل المال أو كثيره عن الإمام كان ما كتم غلولا‏.‏
اس بات کا بیان کہ تحصیلدار جو کثیر یا قلیل مال امام سے چھپائے گا وہ خیانت شمار ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2338
قَالَ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ-‏:‏ ‏ [‏وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ‏]
 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2338
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ لَنَا عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِنْهُ مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ، فَهُوَ غُلٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ أَسْوَدُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْبَلْ مِنِّي عَمَلَكَ، قَالَ: لِمَ؟ قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ: كَذَا وَكَذَا، قَالَ:" وَأَنَا أَقُولُ ذَلِكَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَهُ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى"
سیدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ہمارا کوئی کام سر انجام دیا پھر اس نے اس میں سے ایک سوئی یا اس سے کمتر کوئی چیز چھپائی تو وہ خیانت ہے جسے وہ قیامت کے دن لیکر حاضر ہوگا۔ یہ بات سن کر ایک سیاہ رنگ کے انصاری، گویا کہ میں اسے دیکھ رہا ہوں، نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ مجھ سے اپنی ذمہ داری واپس لے لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیوں؟ اُس نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو ایسے ایسے فرماتے ہوئے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور میں نے وہ بات بیان کی ہے کہ ہم جسے کوئی ذمہ داری سونپیں تو وہ ہر تھوڑا یا زیادہ مال لیکر حاضر ہو پھر اُسے جو دیا جائے لے لے اور جس سے منع کردیا جائے اس سے رُک جائے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر السعاية على الصدقة/حدیث: 2338]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1833، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2338، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5078، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3581، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7756، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17994»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عدي بن عميرة الكندي، أبو زرارةصحابي
👤←👥قيس بن أبي حازم البجلي، أبو عبد الله
Newقيس بن أبي حازم البجلي ← عدي بن عميرة الكندي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← قيس بن أبي حازم البجلي
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2338 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2338
فوائد:
➊ اس حدیث میں عاملینِ زکوۃ کو تاکید کی گئی ہے کہ زکوۃ کے مال میں کوئی تصرف نہ کریں، بلکہ جتنا اور جیسا مال وصول کریں، بعینہ حاکم کی خدمت میں پیش کر دیں۔ زکوۃ کے مال میں عاملِ زکوۃ کا کسی قسم کا تصرف و استعمال خیانت ہے اور زکوۃ میں خیانت کرنے والا روزِ قیامت دردناک عذاب کا سزاوار ٹھہرے گا۔
➋ کتاب و سنت کی تعلیمات انسان کو خیانت اور کرپشن کے ارتکاب سے مانع ہیں۔ ورنہ غیر اسلامی قواعد و قوانین خائن اور کرپٹ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور عوام، فقراء، مساکین اور مستحقینِ زکوۃ کا استیصال کرتے ہیں۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکام و رعایا کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ کیا جائے اور شرعی قوانین کا نفاذ کیا جائے، معاشرے سے خیانت، کرپشن اور استیصال ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2338]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2338 in Urdu