صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1620. (65) باب ذكر البيان أن ما كتم الساعي من قليل المال أو كثيره عن الإمام كان ما كتم غلولا.
اس بات کا بیان کہ تحصیلدار جو کثیر یا قلیل مال امام سے چھپائے گا وہ خیانت شمار ہوگا
حدیث نمبر: Q2338
قَالَ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ-: [وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ]
حدیث نمبر: 2338
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ لَنَا عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِنْهُ مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ، فَهُوَ غُلٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ أَسْوَدُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْبَلْ مِنِّي عَمَلَكَ، قَالَ: لِمَ؟ قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ: كَذَا وَكَذَا، قَالَ:" وَأَنَا أَقُولُ ذَلِكَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَهُ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى"
سیدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ہمارا کوئی کام سر انجام دیا پھر اس نے اس میں سے ایک سوئی یا اس سے کمتر کوئی چیز چھپائی تو وہ خیانت ہے جسے وہ قیامت کے دن لیکر حاضر ہوگا۔“ یہ بات سن کر ایک سیاہ رنگ کے انصاری، گویا کہ میں اسے دیکھ رہا ہوں، نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ مجھ سے اپنی ذمہ داری واپس لے لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیوں؟“ اُس نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو ایسے ایسے فرماتے ہوئے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور میں نے وہ بات بیان کی ہے کہ ہم جسے کوئی ذمہ داری سونپیں تو وہ ہر تھوڑا یا زیادہ مال لیکر حاضر ہو پھر اُسے جو دیا جائے لے لے اور جس سے منع کردیا جائے اس سے رُک جائے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر السعاية على الصدقة/حدیث: 2338]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1833، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2338، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5078، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3581، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7756، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17994»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2338 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2338
فوائد:
➊ اس حدیث میں عاملینِ زکوۃ کو تاکید کی گئی ہے کہ زکوۃ کے مال میں کوئی تصرف نہ کریں، بلکہ جتنا اور جیسا مال وصول کریں، بعینہ حاکم کی خدمت میں پیش کر دیں۔ زکوۃ کے مال میں عاملِ زکوۃ کا کسی قسم کا تصرف و استعمال خیانت ہے اور زکوۃ میں خیانت کرنے والا روزِ قیامت دردناک عذاب کا سزاوار ٹھہرے گا۔
➋ کتاب و سنت کی تعلیمات انسان کو خیانت اور کرپشن کے ارتکاب سے مانع ہیں۔ ورنہ غیر اسلامی قواعد و قوانین خائن اور کرپٹ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور عوام، فقراء، مساکین اور مستحقینِ زکوۃ کا استیصال کرتے ہیں۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکام و رعایا کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ کیا جائے اور شرعی قوانین کا نفاذ کیا جائے، معاشرے سے خیانت، کرپشن اور استیصال ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔
➊ اس حدیث میں عاملینِ زکوۃ کو تاکید کی گئی ہے کہ زکوۃ کے مال میں کوئی تصرف نہ کریں، بلکہ جتنا اور جیسا مال وصول کریں، بعینہ حاکم کی خدمت میں پیش کر دیں۔ زکوۃ کے مال میں عاملِ زکوۃ کا کسی قسم کا تصرف و استعمال خیانت ہے اور زکوۃ میں خیانت کرنے والا روزِ قیامت دردناک عذاب کا سزاوار ٹھہرے گا۔
➋ کتاب و سنت کی تعلیمات انسان کو خیانت اور کرپشن کے ارتکاب سے مانع ہیں۔ ورنہ غیر اسلامی قواعد و قوانین خائن اور کرپٹ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور عوام، فقراء، مساکین اور مستحقینِ زکوۃ کا استیصال کرتے ہیں۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکام و رعایا کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ کیا جائے اور شرعی قوانین کا نفاذ کیا جائے، معاشرے سے خیانت، کرپشن اور استیصال ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2338]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2338 in Urdu
قيس بن أبي حازم البجلي ← عدي بن عميرة الكندي