صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1622. (67) باب صفة إتيان الساعي يوم القيامة بما غل من الصدقة، وأمر الإمام بمحاسبة الساعي إذا [238: ب] قدم من سعايته
زکوٰۃ کا تحصیل دار جو خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن اس مال کو کیسے لیکر حاضر ہوگا، اس کی کیفیت کا بیان اور امام کا تحصیلدار کا محاسبہ کرنے کا حُکم دینے کا بیان جبکہ وہ مال لیکر واپس آئے
حدیث نمبر: 2340
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا مِنَ الأَزْدِ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ، يُقَالُ لَهُ: ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ، قَالَ: هَذَا مَا لَكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَهَلا جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ هَدِيَّتُكَ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا"، ثُمَّ خَطَبَنَا فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ , فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ الرَّجُلَ مِنْكُمْ عَلَى الْعَمَلِ مِمَّا وَلانِيهِ اللَّهُ، فَيَأْتِي فَيَقُولُ: هَذَا مَا لَكُمْ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ لِي أَفَلا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا، وَاللَّهِ لا يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ، إِلا لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَلأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةً تَيْعَرُ"، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ بَصَرَ عَيْنِي، وَسَمْعَ أُذُنَيَّ"
سیدنا ابوحمید الساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلى الله عليه وسلم اللہ نے بنوسلیم کی زکوۃ وصول کرنے کے لئے ازد قبیلے کے ایک شخص کو عامل بنایا جسے ابنِ لتبیہ کہا جاتا ہے۔ پھر جب وہ مال لیکر حاضر ہوا تو آپ نے اُس کا محاسبہ کیا تو اُس نے کہا کہ یہ آپ کا حصّہ ہے اور یہ (میرا) ہدیہ ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہ بیٹھ گئے حتّیٰ کہ تیرا ہدیہ تیرے پاس آجاتا اگر تم سچّے ہو۔“ پھر ہمیں خطبہ ارشاد فرماتے تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اما بعد، میں تم میں سے کسی شخص کو کسی کام کا عامل بناتا ہوں، ان کاموں میں سے کسی کام کا جن کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے مجھے دی ہے تو وہ واپس آتا ہے تو کہتا ہے کہ یہ تمہارا مال ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے۔ وہ شخص اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہ بیٹھ گیا حتّیٰ کہ اس کا ہدیہ اس کے پاس آجاتا، اگر وہ سچا ہے۔ اللہ کی قسم، تم میں سے جو شخص بھی بغیر حق کے کوئی چیز لیگا تو وہ قیامت والے دن اس چیز کو اُٹھائے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کریگا تو میں تم میں سے کسی شخص کو نہ پہچانوں کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ اُس نے اونٹ کو اُٹھایا ہو اور وہ بلبلا رہا ہو، یا اُس نے گائے اُٹھا رکھی ہو جو چلّا رہی ہو یا اسکی گردن پر بکری سوار ہو جو ممیا رہی ہو۔“ پھر آپ نے اپنے ہاتھ بلند کیے حتّیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آگئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ، کیا میں نے تیرا حُکم پہنچا دیا۔“ میری آنکھوں نے یہ منظر دیکھا اور میرے کانوں نے یہ الفاظ سنے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر السعاية على الصدقة/حدیث: 2340]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1500، 2597، 6636، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1832، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2339، 2340، 2382، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4515، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2946، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7758، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24085»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2340 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2340
فوائد:
➊ یہ احادیث دلالت کرتی ہیں کہ زکوٰۃ کے مال میں تصرف کرنا حرام ہے۔ زکوٰۃ دینے والوں سے ہدیہ اور تحائف وصول کرنا بھی حرام ہے، بلکہ وہ یا تو تحائف قبول کرے ہی نہ اور اگر تحائف وصول کرے تو حاکمِ وقت کے سامنے پیش کرنے چاہییں۔ پھر حاکمِ وقت کو اختیار ہے کہ وہ تحائف بیت المال میں جمع کرے یا کچھ عامل کو دے دے۔
➋ ◈ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ احادیث دلیل ہیں کہ عمالِ زکوٰۃ کا تحائف لینا حرام ہے اور خیانت ہے، کیونکہ وہ اپنی ذمہ داری اور امانت میں خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس لیے حدیث میں ایسے شخص کی عقوبت کا بیان ہوا ہے اور یہ وعید بھی بیان ہوئی ہے کہ وہ تحفہ میں جو چیز قبول کرے گا، روزِ قیامت اسے اس کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ [شرح النووي: 219/12]
➊ یہ احادیث دلالت کرتی ہیں کہ زکوٰۃ کے مال میں تصرف کرنا حرام ہے۔ زکوٰۃ دینے والوں سے ہدیہ اور تحائف وصول کرنا بھی حرام ہے، بلکہ وہ یا تو تحائف قبول کرے ہی نہ اور اگر تحائف وصول کرے تو حاکمِ وقت کے سامنے پیش کرنے چاہییں۔ پھر حاکمِ وقت کو اختیار ہے کہ وہ تحائف بیت المال میں جمع کرے یا کچھ عامل کو دے دے۔
➋ ◈ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ احادیث دلیل ہیں کہ عمالِ زکوٰۃ کا تحائف لینا حرام ہے اور خیانت ہے، کیونکہ وہ اپنی ذمہ داری اور امانت میں خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس لیے حدیث میں ایسے شخص کی عقوبت کا بیان ہوا ہے اور یہ وعید بھی بیان ہوئی ہے کہ وہ تحفہ میں جو چیز قبول کرے گا، روزِ قیامت اسے اس کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ [شرح النووي: 219/12]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2340]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2340 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عبد الرحمن بن سعد الساعدي