صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
184. (183) باب ذكر إيجاب الغسل على المرأة فى الاحتلام إذا أنزلت الماء
احتلام کی وجہ سے عورت کی منی نکل جائے تو اس پر غسل واجب ہوجاتا ہے
حدیث نمبر: 235
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وَحَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي الْمَنَامِ مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ قَالَ:" إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ" ، قَالَتْ: قُلْتُ: فَضَحْتِ النِّسَاءَ، وَهَلْ تَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَرِبَتْ يَمِينُكِ وَفِيمَا يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا إِذًا". هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ , غَيْرُ أَنَّ الدَّوْرَقِيَّ لَمْ يَقُلْ: إِذًا، وَانْتِهَاءُ حَدِيثِ مَالِكٍ، عِنْدَ قَوْلِهِ: إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ، وَلَمْ يَذْكُرُ مَا بَعْدَهَا مِنَ الْحَدِيثِ
سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، تو اُنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اُس عورت کے متعلق پوچھا جو خواب میں مرد کی طرح دیکھتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ”جب وہ پانی دیکھے تو اُسے غسل کرنا چاہیے۔“ (سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں کہ میں نے کہا، (اُم سلیم) تم نے توعورتوں کورسوا کردیا ہے کیا عورت کوبھی احتلام ہوتا ہے؟ تو نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو (اگر ایسا نہیں ہے تو) پھر بچّہ ماں کے مشابہ کیسے ہوتا ہے۔؟“ یہ وکیع کی حدیث ہے۔ دورقی (راوی) نے «اذا» کا لفظ بیان نہیں کیا جبکہ مالک کی حدیث «اذا رَاَتِ الْمَاءَ» پر ختم ہو جاتی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب غسل الجنابة/حدیث: 235]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 130، 282، 3328، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 313، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 235، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1165، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 197، والترمذي فى (جامعه) برقم: 122، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 600، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 807، 808، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27146»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 235 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 235
فوائد:
➊ ◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جیسے مرد کی منی خارج ہونے کی صورت میں اس پر غسل واجب ہے، اسی طرح عورت کی منی خارج ہونے کی صورت میں عورت پر غسل واجب ہے۔ اور تمام اہل اسلام کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ عورت اور مرد پر منی خارج ہونے کی صورت میں غسل واجب ہے۔ [نووی: 219/3]
➋ عورت جب احتلام کے دوران منی کا پانی دیکھے تب غسل کرے گی۔ یعنی احتلام میں وجوبِ غسل کے لیے منی کا پانی دیکھنا شرط ہے اور اگر وہ پانی نہ دیکھے تو غسل نہیں کرے گی۔ [فتح الباری: 302/2]
➌ یہ حدیث دلیل ہے کہ کچھ عورتوں کو احتلام ہوتا ہے اور کچھ کو احتلام سے واسطہ نہیں پڑتا۔ اسی لیے ام عائشہ رضی اللہ عنہا نے احتلام کا انکار کیا تھا لیکن ان کے جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عورت کی منی کے وجود ہی کی منکر تھیں۔ لہٰذا ان کی اس نفی کا انکار کیا گیا کہ عورت بھی مادہ منویہ سے دوچار ہوتی ہے۔ [فتح الباری: 303/1]
➊ ◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جیسے مرد کی منی خارج ہونے کی صورت میں اس پر غسل واجب ہے، اسی طرح عورت کی منی خارج ہونے کی صورت میں عورت پر غسل واجب ہے۔ اور تمام اہل اسلام کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ عورت اور مرد پر منی خارج ہونے کی صورت میں غسل واجب ہے۔ [نووی: 219/3]
➋ عورت جب احتلام کے دوران منی کا پانی دیکھے تب غسل کرے گی۔ یعنی احتلام میں وجوبِ غسل کے لیے منی کا پانی دیکھنا شرط ہے اور اگر وہ پانی نہ دیکھے تو غسل نہیں کرے گی۔ [فتح الباری: 302/2]
➌ یہ حدیث دلیل ہے کہ کچھ عورتوں کو احتلام ہوتا ہے اور کچھ کو احتلام سے واسطہ نہیں پڑتا۔ اسی لیے ام عائشہ رضی اللہ عنہا نے احتلام کا انکار کیا تھا لیکن ان کے جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عورت کی منی کے وجود ہی کی منکر تھیں۔ لہٰذا ان کی اس نفی کا انکار کیا گیا کہ عورت بھی مادہ منویہ سے دوچار ہوتی ہے۔ [فتح الباری: 303/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 235]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 235 in Urdu
زينب بنت أم سلمة المخزومية ← أم سلمة زوج النبي