صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1643. (88) باب إذن الإمام للعامل بالتزويج، واتخاذ الخادم والمسكن من الصدقة
امام کا زکوٰۃ کے تحصل دار کو اجازت دینا کہ وہ مالِ زکوٰۃ سے شادی کرسکتا ہے، خادم رکھ سکتا ہے اور گھر بھی لے سکتا ہے
حدیث نمبر: 2370
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَخْلَدِ بْنِ الْمُفْتِي ، حَدَّثَنَا مُعَافَى هُوَ ابْنُ عِمْرَانَ الْمَوْصِلِيُّ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنَا حَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ كَانَ لَنَا عَامِلا، فَلْيَكْتَسِبْ زَوْجَةً، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ خَادِمٌ، فَلْيَكْتَسِبْ خَادِمًا، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَسْكَنٌ، فَلْيَكْتَسِبْ مَسْكَنًا" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَعْنِي الْمُعَافَى أُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنِ اتَّخَذَ غَيْرَ ذَلِكَ، فَهُوَ غَالٌّ أَوْ سَارِقٌ"
سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص ہمارا عامل ہو تو وہ (اس مال ذکوٰۃ سے) نکا ح کرلے اور اگر اس کے پاس خادم نہ ہو تو خادم لے لے، اور جس کے پاس گھر نہ ہو تو وہ گھر لے لے۔“ جناب معافی کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ان چیزوں کے سوا کوئی چیزلی تو وہ خائن ہے یا چور ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2370]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2370، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1478، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2945، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13141، 13142، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18298»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2370 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2370
فوائد:
◈ ملا علی قاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث دلیل ہے کہ حکومتِ اسلامیہ کے عامل و نگران کے لیے بیت المال سے بیوی کے حق مہر، خرچ اور لباس وغیرہ کی ضروریات کے لیے مال حاصل کرنا حلال ہے اور اگر وہ ضرورت سے زیادہ لے گا تو ضرورت سے زیادہ مال لینا اس کے لیے حرام ہے۔ [عون المعبود: 115/7]
➊ نیز اس عامل و نگران کے پاس خادم اور گھر نہ ہو تو بقدرِ کفایت بیت المال سے مال حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بیت المال سے ذاتی تصرف کے لیے مال استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
◈ ملا علی قاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث دلیل ہے کہ حکومتِ اسلامیہ کے عامل و نگران کے لیے بیت المال سے بیوی کے حق مہر، خرچ اور لباس وغیرہ کی ضروریات کے لیے مال حاصل کرنا حلال ہے اور اگر وہ ضرورت سے زیادہ لے گا تو ضرورت سے زیادہ مال لینا اس کے لیے حرام ہے۔ [عون المعبود: 115/7]
➊ نیز اس عامل و نگران کے پاس خادم اور گھر نہ ہو تو بقدرِ کفایت بیت المال سے مال حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بیت المال سے ذاتی تصرف کے لیے مال استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2370]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2370 in Urdu
عبد الرحمن بن جبير المؤذن ← المستورد بن شداد القرشي