🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1642. ‏(‏87‏)‏ بَابُ فَرْضِ الْإِمَامِ لِلْعَامِلِ عَلَى الصَّدَقَةِ رِزْقًا مَعْلُومًا
امام کو زکوٰۃ کے تحصیل دار کے لئے مزدوری مقرر کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2369
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَرَزَقْنَاهُ رِزْقًا، فَمَا أَخَذَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ غُلُولٌ"
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے جس شخص کو کسی کام کی ذمہ داری سونپی اور اسے اس کی تنخواہ بھی دے دی تو اس کے بعد وہ جو مال لے گا وہ خیانت ہوگی۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2369]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2369، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1477، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2943، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13143، والبزار فى (مسنده) برقم: 4427»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيبصحابي
👤←👥عبد الله بن بريدة الأسلمي، أبو سهل
Newعبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي
ثقة
👤←👥الحسين بن ذكوان المعلم
Newالحسين بن ذكوان المعلم ← عبد الله بن بريدة الأسلمي
ثقة
👤←👥عبد الوارث بن سعيد العنبري، أبو عبيدة
Newعبد الوارث بن سعيد العنبري ← الحسين بن ذكوان المعلم
ثقة ثبت
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم
Newالضحاك بن مخلد النبيل ← عبد الوارث بن سعيد العنبري
ثقة ثبت
👤←👥زيد بن أخزم الطائي، أبو طالب
Newزيد بن أخزم الطائي ← الضحاك بن مخلد النبيل
ثقة حافظ
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2369 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2369
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ عامل اپنی محنت و کام کے عوض اجرت لے سکتا ہے، اور زکاۃ کی وصولی کرنے والا بھی اسی حکم میں شامل ہے کہ وہ اس کام کی اجرت حاصل کر سکتا ہے۔
➋ عامل کا طے شدہ اجرت سے زیادہ لینا مثلاً کسی سے تحفے تحائف لینا، یا جمع شدہ مال سے حاکمِ وقت کی اجازت کے بغیر لینا خیانت ہے اور ایسا مال اس کے لیے سراسر حرام ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2369]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2369 in Urdu