صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1642. (87) بَابُ فَرْضِ الْإِمَامِ لِلْعَامِلِ عَلَى الصَّدَقَةِ رِزْقًا مَعْلُومًا
امام کو زکوٰۃ کے تحصیل دار کے لئے مزدوری مقرر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2369
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَرَزَقْنَاهُ رِزْقًا، فَمَا أَخَذَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ غُلُولٌ"
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے جس شخص کو کسی کام کی ذمہ داری سونپی اور اسے اس کی تنخواہ بھی دے دی تو اس کے بعد وہ جو مال لے گا وہ خیانت ہوگی۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2369]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2369، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1477، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2943، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13143، والبزار فى (مسنده) برقم: 4427»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2369 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2369
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ عامل اپنی محنت و کام کے عوض اجرت لے سکتا ہے، اور زکاۃ کی وصولی کرنے والا بھی اسی حکم میں شامل ہے کہ وہ اس کام کی اجرت حاصل کر سکتا ہے۔
➋ عامل کا طے شدہ اجرت سے زیادہ لینا مثلاً کسی سے تحفے تحائف لینا، یا جمع شدہ مال سے حاکمِ وقت کی اجازت کے بغیر لینا خیانت ہے اور ایسا مال اس کے لیے سراسر حرام ہے۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ عامل اپنی محنت و کام کے عوض اجرت لے سکتا ہے، اور زکاۃ کی وصولی کرنے والا بھی اسی حکم میں شامل ہے کہ وہ اس کام کی اجرت حاصل کر سکتا ہے۔
➋ عامل کا طے شدہ اجرت سے زیادہ لینا مثلاً کسی سے تحفے تحائف لینا، یا جمع شدہ مال سے حاکمِ وقت کی اجازت کے بغیر لینا خیانت ہے اور ایسا مال اس کے لیے سراسر حرام ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2369]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2369 in Urdu
عبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي