🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1663. ‏(‏108‏)‏ باب ذكر فرض زكاة الفطر والبيان على أن زكاة الفطر على من يجب عليه زكاته، ضد قول من زعم أنها سنة غير فريضة
صدقہ فطر کی فرضیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2393
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ" ، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُخْرِجُ عَنِ الصَّغِيرِ، وَالْكَبِيرِ، وَالْمَمْلُوكِ مِنْ أَهْلِهِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ فَأَعْوَزَهُ مَرَّةً، فَاسْتَلَفَ شَعِيرًا، فَلَمَّا كَانَ زَمَانُ مُعَاوِيَةَ عَدَلَ النَّاسُ مُدَّيْنِ مِنْ قَمْحٍ بِصَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض کیا۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے گھر کے ہر چھوٹے بڑے اور غلام کی طرف سے کھجور ہی سے ایک ایک صاع صدقہ فطر ادا کیا کرتے تھے مگر ایک سال کجھوریں نہ مل سکیں تو انہوں نے جَو ادھار لیکرادا کر دیئے۔ پھر جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور حکومت آیا تو لوگوں نے ایک صاع جَو کے بدلے گندم کا نصف صاع (دومد) ادا کرنے شروع کر دیئے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الفطر فى رمضان/حدیث: 2393]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1503، 1504، 1507، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 984، ومالك فى (الموطأ) برقم: 989، وابن الجارود فى "المنتقى"، 392، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2392، 2393، 2395، 2397، 2398، 2399، 2400، 2403، 2404، 2405، 2406، 2409، 2411، 2416، 2421، 2422، 2423، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3299، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2599، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1494، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1610، والترمذي فى (جامعه) برقم: 675، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1825، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7764، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2069، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4572»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبتت حجة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← أيوب السختياني
ثقة حافظ حجة
👤←👥عبد الجبار بن العلاء العطار، أبو بكر
Newعبد الجبار بن العلاء العطار ← سفيان بن عيينة الهلالي
صدوق حسن الحديث
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2393 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2393
فوائد:
➊ علما کا فطرانہ کی فرضیت میں اختلاف ہے، لیکن جمہور علما کا موقف ہے کہ فطرانہ فرض ہے کیونکہ فطرانہ اس عام حکم ربانی ﴿وَآتُوا الزَّكَاةَ﴾ [سورة البقرة: 43] میں داخل ہے اور حدیث میں فرض کا لفظ بھی اسی معنی کے لیے مستعمل ہے۔ [شرح النووي: 7/58]
➋ امام شوکانی رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث میں لفظ فرض سے فطرانہ کی فرضیت تسلیم کی ہے۔ [نيل الأوطار: 4/192]
➌ فطرانہ کے وجوب کا وقت عید الفطر کی رات کو شروع ہوتا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا رائج قول یہی ہے۔ اور ایک دوسرا قول ہے کہ وجوبِ فطرانہ کا وقت عید الفطر کی فجر کے طلوع ہونے سے شروع ہوتا ہے اور اصحابِ شافعی کہتے ہیں کہ دونوں وقت وجوبِ فطرانہ کے ہیں۔ [شرح النووي: 7/58]
➍ فطرانہ ہر مسلمان بالغ، نابالغ، مذکر و مؤنث اور آزاد و غلام ہر ایک پر فرض ہے اور کافر پر فطرانہ واجب نہیں، خواہ کوئی غلام کسی مسلمان آقا کے زیر تصرف ہو۔
➎ فطرانہ اس مسلمان پر فرض ہے، جو زکاۃ فطر نکالنے کی طاقت رکھتا ہے۔ ایسے قلاش اور مفلس لوگ جو فطرانہ کی رقم ادا کرنے سے معذور ہیں، ان سے یہ فریضہ ساقط ہے، کیونکہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ اللہ کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں بناتا۔ [سورة البقرة: 286]
➏ فطرانہ میں ہر نفس پر خوراک کا ایک صاع (2 کلو دس گرام) واجب ہے اور اگر گندم اور انگور کی اجناس کے سوا اجناس ہوں تو ان اجناس میں بالاجماع صاع واجب ہے اور اگر گندم اور انگور ہوں تو شافعی، مالک اور جمہور علما کے نزدیک ان میں بھی ایک صاع فطرانہ ہی واجب ہے۔ [شرح النووي: 7/59]
➐ (احادیث کی رو سے یہی موقف راجح ہے) کیونکہ سیدنا معاویہ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ کے اجتہاد کی صحابہ سے مخالفت ثابت ہے۔ پھر سیدنا معاویہ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ کا موقف مطلق احادیثِ صاع کے بھی خلاف ہے۔ نیز ہر زمانے میں مختلف اجناس کی قیمتیں گھٹتی بڑھتی ہیں جو کس قاعدے کی رو سے اور کتنی مقدار میں اجناس بطور فطرانہ دی جائیں گی۔ لہذا ہر جنس سے فطرانہ کی ایک صاع مقدار درست اور آسان ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2393]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2393 in Urdu