صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1664. (109) باب ذكر الدليل على أن الأمر بصدقة الفطر كان قبل فرض لزكاة الأموال
اس بات کی دلیل کا بیان کہ صدقہ فطر کی ادائیگی کا حُکم فرضیت زکوٰۃ سے پہلے ہوا تھا
حدیث نمبر: 2394
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّعْلَبِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الزَّكَاةُ، فَلَمَّا نَزَلَتِ الزَّكَاةُ، لَمْ يَأْمُرْنَا، وَلَمْ يَنْهَنَا وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ"
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ زکوٰۃ کی فرضیت نازل ہونے سے پہلے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ادا کرنے کا حُکم دیا، پھر جب زکوٰۃ کی فرضیت نازل ہوئی تو آپ نے ہمیں صدقہ فطر کا نہ حُکم دیا اور نہ منع کیا جبکہ ہم صدقہ فطر ادا کرتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الفطر فى رمضان/حدیث: 2394]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2394، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1496، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2505، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1828، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7765، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15716»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2394 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2394
فوائد:
➊ فطرانہ فرض ہے اور اس کی فرضیت کی تنسیخ کے متعلق روایات ضعیف ہیں۔ لہٰذا فطرانہ کی تنسیخ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔
➋ پھر اگر اس روایت کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو اس بات کے ثبوت کے لیے دلیل چاہیے کہ کسی ایک چیز کے فرض سے بلا دلیل دوسرا فرض ساقط ہو جاتا ہے۔
➊ فطرانہ فرض ہے اور اس کی فرضیت کی تنسیخ کے متعلق روایات ضعیف ہیں۔ لہٰذا فطرانہ کی تنسیخ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔
➋ پھر اگر اس روایت کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو اس بات کے ثبوت کے لیے دلیل چاہیے کہ کسی ایک چیز کے فرض سے بلا دلیل دوسرا فرض ساقط ہو جاتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2394]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2394 in Urdu
عريب بن حميد الهمداني ← قيس بن سعد الأنصاري