صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1759. (18) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُبِحْ- بِزَجْرِهِ عَنْ سَفَرِهَا مَعَ غَيْرِ ذَوِي مَحْرَمٍ يَوْمًا وَلَيْلَةً- السَّفَرَ الَّذِي هُوَ أَقَلُّ مِنْهُ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو بغیر محرم ایک دن رات کے سفر سے منع کرکے اس سے کم سفر کرنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو بغیر محرم کے صرف ایک رات کا سفر کرنے سے بھی منع کیا ہے
حدیث نمبر: 2525
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُسَافِرِ امْرَأَةٌ مَسِيرَةَ لَيْلَةٍ، إِلا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَقَدِ اسْتَقْصَيْتُ هَذِهِ الأَخْبَارَ فِي كِتَابِ الْكَبِيرِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت ایک رات کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے کتاب الکبیر میں یہ روایات تفصیل سے بیان کی ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2525]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1088، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1339، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3588، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2523، 2524، 2525، 2526، 2527، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2721، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1621، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1723، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1170، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2899، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5492، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7342»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2525 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2525
فوائد:
➊ ◈ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان احادیث کا حاصل یہ ہے کہ جس سفر پر سفر کا اطلاق ہوتا ہے، عورت کے لیے ایسا ہر سفر محرم کے بغیر ممنوع ہے، خواہ سفر کی مدت تین دن، دو دن، ایک دن، ایک برس یا اس سے کم ہو، کیونکہ اس بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت مطلق ہے کہ ❀ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔“ اور یہ روایت ہر قسم کے سفر کو شامل ہے۔ [شرح النووي: 103/9]
➋ عورت محرم کے بغیر حج کا سفر کر سکتی ہے یا نہیں، اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔
کچھ علماء کا موقف ہے کہ چونکہ حج عورت پر فرض ہے اور اگر کسی عورت کو اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے سفر میں محرم میسر نہ آئے تو وہ بغیر محرم کے قابل اعتماد مسلم عورتوں کے ساتھ مل کر حج کا فریضہ ادا کرسکتی ہے، لیکن محدثین کرام، حسن بصری اور ابراہیم نخعی کا موقف ہے کہ عورت کے لیے سفرِ حج میں محرم کا ہونا ضروری ہے۔
اور احادیثِ باب بھی اس موقف کی مؤید ہیں۔
◈ شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ احادیثِ باب دلیل ہیں کہ عورت پر حج تب فرض ہوتا ہے جب سفرِ حج میں اسے محرم میسر ہو۔ [نيل الأوطار: 40/310]
➊ ◈ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان احادیث کا حاصل یہ ہے کہ جس سفر پر سفر کا اطلاق ہوتا ہے، عورت کے لیے ایسا ہر سفر محرم کے بغیر ممنوع ہے، خواہ سفر کی مدت تین دن، دو دن، ایک دن، ایک برس یا اس سے کم ہو، کیونکہ اس بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت مطلق ہے کہ ❀ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔“ اور یہ روایت ہر قسم کے سفر کو شامل ہے۔ [شرح النووي: 103/9]
➋ عورت محرم کے بغیر حج کا سفر کر سکتی ہے یا نہیں، اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔
کچھ علماء کا موقف ہے کہ چونکہ حج عورت پر فرض ہے اور اگر کسی عورت کو اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے سفر میں محرم میسر نہ آئے تو وہ بغیر محرم کے قابل اعتماد مسلم عورتوں کے ساتھ مل کر حج کا فریضہ ادا کرسکتی ہے، لیکن محدثین کرام، حسن بصری اور ابراہیم نخعی کا موقف ہے کہ عورت کے لیے سفرِ حج میں محرم کا ہونا ضروری ہے۔
اور احادیثِ باب بھی اس موقف کی مؤید ہیں۔
◈ شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ احادیثِ باب دلیل ہیں کہ عورت پر حج تب فرض ہوتا ہے جب سفرِ حج میں اسے محرم میسر ہو۔ [نيل الأوطار: 40/310]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2525]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2525 in Urdu
كيسان المقبري ← أبو هريرة الدوسي