🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
198. ‏(‏197‏)‏ باب استحباب غسل الكافر إذا أسلم بالماء والسدر
کافر جب مسلمان ہو تو اس کا پانی اور بیری سے غسل کرنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 255
نا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَغَرِّ ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَخْلاهُ، فَأَسْلَمَ" فَأَمَرَهُ أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ"
سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تنہائی میں ملاقات کی درخواست کی، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے تنہائی میں ملاقات کی) تو وہ مسلمان ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاُنہیں پانی اور بیری (کے پتّوں) سےغسل کرنے کا حکم دیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب غسل الجنابة/حدیث: 255]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 14، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 254، 255، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1240، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 188، وأبو داود فى (سننه) برقم: 355، والترمذي فى (جامعه) برقم: 605، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 823، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20942»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥قيس بن عاصم التميمي، أبو علي، أبو قبيصة، أبو طلحةصحابي
👤←👥خليفة بن الحصين المنقري
Newخليفة بن الحصين المنقري ← قيس بن عاصم التميمي
ثقة
👤←👥الأغر بن الصباح التميمي
Newالأغر بن الصباح التميمي ← خليفة بن الحصين المنقري
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← الأغر بن الصباح التميمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة ثبت
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 255 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 255
فوائد:
➊ ان احادیث میں دلیل ہے کہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی صورت میں نو مسلم شخص کے لیے غسل مشروع ہے، نیز بعض علماء اس غسل کے وجوب کے قائل ہیں اور اکثر علماء کے نزدیک یہ غسل مستحب ہے۔ [تحفة الأحوذي: 152/3]
➋ بظاہر احادیثِ باب اس غسل کے وجوب کی متقاضی ہیں، کیونکہ بعض نو مسلم صحابہ کو غسل کا حکم دینے سے تبلیغ کا مقصود ہو جاتا ہے اور یہ دعویٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص صحابہ کو غسل کا حکم دیا تھا، جبکہ اکثریت کو یہ حکم نہیں دیا گیا، اس سے غسل کے استحباب کی دلیل لینا درست نہیں، کیونکہ دیگر صحابہ کو حکم نہ دینا نامعلوم ہے۔ (لہٰذا یہ استدلال مرجوح ہے)۔ [نیل الأوطار: 243/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 255]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 255 in Urdu