صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1813. (72) باب كراهية الإحرام وراء المواقيت التى وقت النبى صلى الله عليه وسلم لأهل الآفاق الذين منازلهم وراءها
دینا بھر سے حج وعمرہ کے لئے آنے والوں کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ میقات سے پہلے ہی احرام باندھنا جائز نہیں
حدیث نمبر: 2593
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ:" أَمَرَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَنْ يُهِلُّوا مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلَ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلَ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ" ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: وَأُخْبِرْتُ أَنَّهُ قَالَ:" وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ"
اسماعیل ابن جفر عبدالله بن دینار کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ مدینہ کو یہ حُکم دیا کہ وہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھ لیں، اہلِ شام جحفہ سے، اہلِ نجد قرن سے احرام باندھ لیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اہلِ یمن یلملم سے احرام باندھ لیں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2593]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 133، 1522، 1525، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1182، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1186، وابن الجارود فى "المنتقى"، 452، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2589، 2593، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3759، 3760، 3761، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2650، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1737، والترمذي فى (جامعه) برقم: 831، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2914، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8998، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4541»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2593 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2593
فوائد:
➊ رابغ بستی کے قریب ہے اور رابغ اور مکہ کی درمیانی مسافت 202 کلومیٹر ہے۔ نیز اب مقام جحفہ کے نشانات معدوم ہونے کی بنا پر اہل مصر، شام اور اس جانب سے آنے والوں کا میقات مقام رابغ ہے۔
➋ اہل نجد کا میقات قرن المنازل ہے، یہ مکہ سے مشرقی طرف ایک پہاڑی مقام ہے اور مکہ اور قرن المنازل کا درمیانی فاصلہ 92 کلومیٹر ہے۔
➌ اہل یمن کے لیے یلملم میقات مقرر ہے۔ یہ مکہ سے جنوب کی طرف پہاڑ ہے جو مکہ سے 52 کلومیٹر دور ہے۔ اہل عراق کا میقات ذات عرق ہے۔ یہ مکہ کے شمال مشرق میں واقع ہے اور ان دونوں مقامات کا فاصلہ 92 کلومیٹر ہے۔ یہ مواقیت ان علاقوں اور راستوں سے آنے والے حجاج اور معتمرین کے لیے متعین ہیں۔ [فقه السنة: 1/ 575، 576]
➍ باہر سے آنے والوں کا ان مواقیت سے گزرنے سے قبل احرام باندھنا لازم ہے اور اہل مکہ اور ان مواقیت سے اندر رہنے والے اپنے گھروں سے احرام باندھ کر نکلیں گے۔
➊ رابغ بستی کے قریب ہے اور رابغ اور مکہ کی درمیانی مسافت 202 کلومیٹر ہے۔ نیز اب مقام جحفہ کے نشانات معدوم ہونے کی بنا پر اہل مصر، شام اور اس جانب سے آنے والوں کا میقات مقام رابغ ہے۔
➋ اہل نجد کا میقات قرن المنازل ہے، یہ مکہ سے مشرقی طرف ایک پہاڑی مقام ہے اور مکہ اور قرن المنازل کا درمیانی فاصلہ 92 کلومیٹر ہے۔
➌ اہل یمن کے لیے یلملم میقات مقرر ہے۔ یہ مکہ سے جنوب کی طرف پہاڑ ہے جو مکہ سے 52 کلومیٹر دور ہے۔ اہل عراق کا میقات ذات عرق ہے۔ یہ مکہ کے شمال مشرق میں واقع ہے اور ان دونوں مقامات کا فاصلہ 92 کلومیٹر ہے۔ یہ مواقیت ان علاقوں اور راستوں سے آنے والے حجاج اور معتمرین کے لیے متعین ہیں۔ [فقه السنة: 1/ 575، 576]
➍ باہر سے آنے والوں کا ان مواقیت سے گزرنے سے قبل احرام باندھنا لازم ہے اور اہل مکہ اور ان مواقیت سے اندر رہنے والے اپنے گھروں سے احرام باندھ کر نکلیں گے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2593]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2593 in Urdu
عبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي