صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1839. (98) باب إباحة الزيادة فى التلبية
تلبیہ میں ”ذاالمعارج“ جیسے الفاظ کا اضافہ کرنا درست ہے
حدیث نمبر: 2626
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لا شَرِيكَ لَكَ" ، قَالَ: وَأَمَّا النَّاسُ يَزِيدُونَ ذَا الْمَعَارِجِ وَنَحْوِهِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ لا يَقُولُ شَيْئًا
جناب جعفر اپنے والد محترم سے بیان کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں سوال کیا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ آپ (سفر حج) کے لئے نکلے حتّیٰ کہ آپ کی سواری آپ کو لیکر بیداء مقام پر سیدھی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے یہ کلمات توحید پکارے «لَبَّيْكَ اللَٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ» ”اے اللہ میں تیرے دربار میں حاضر ہوں، میں تیری عبادت پر قائم ہوں۔ میری تیری فرمانبرداری کے لئے تیری بارگاہ میں حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں، اے اللہ، میں تیری خدمت میں حاضر ہوں، بیشک تمام حمد و ثناء تیری ہی شان کے لائق ہے۔ اور سب نعمتیں تیرے ہی قبضہ میں ہیں۔ بادشاہی تیری ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔“ جب کہ صحابہ کرام ”ذالمعارج“ (اے سیڑھیوں والے) کے الفاظ بڑھا دیتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ الفاظ سننے کے باوجود انہیں کچھ نہیں کہتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2626]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1340، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، 2603، 2620، 2626، 2687، 2709، 2713، 2717، 2718، 2754، 2755، 2756، 2757، 2778، 2785، 2786، 2787، 2794، 2802، 2809، 2811، 2812، 2815، 2826، 2835، 2853، 2855، 2857، 2858، 2862، 2864، 2875، 2876، 2877، 2890، 2892، 2900، 2901، 2924، 2926، 2944، 2968، 2969، 3025، 3026، 3056، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 400، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥محمد الباقر، أبو جعفر محمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري | ثقة | |
👤←👥جعفر الصادق، أبو عبد الله جعفر الصادق ← محمد الباقر | صدوق فقيه إمام | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← جعفر الصادق | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2626 in Urdu
محمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري