پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1848. (107) باب ذكر خبر روي عن النبى صلى الله عليه وسلم فى إباحة أكل لحم الصيد للمحرم مجمل غير مفسر
ایک مجمل غیر مفسر روایت کی بیان، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو شکار کا گوشت کھانے کی اجازت دی ہے
حدیث نمبر: Q2638
قَدْ يَحْسَبُ بَعْضُ مَنْ لَا يُمَيِّزُ بَيْنَ الْخَبَرِ الْمُجْمَلِ وَالْمُفَسَّرِ، أَنَّ أَكَلَ لَحْمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا اصْطَادَهُ الْحَلَالُ، طَلْقٌ حَلَالٌ بِكُلِّ حَالٍ
حدیث نمبر: 2638
حَدَثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى . ح وَقَرَأْتُهُ عَلَى بُنْدَارٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ وَنَحْنُ حُرُمٌ فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ، وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ، فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ، وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ، وَفَّقَ مَنْ أَكَلَ، وَقَالَ:" أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الدَّوْرَقِيُّ، وَقَالَ بُنْدَارٌ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَخْبَارُ أَبِي قَتَادَةَ وَتَصْوِيبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِعْلَ مَنْ أَكَلَ الصَّيْدَ الَّذِي اصْطَادَهُ أَبُو قَتَادَةَ، وَمَسْأَلَتُهُ إِيَّاهُمْ هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ؟ وَأَكْلُهُ مِنْ ذَلِكَ اللَّحْمِ مِنْ هَذَا الْبَابِ، وَخَبَرُ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضُّمَيْرِيِّ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَيْضًا
جناب عبد الرحمٰن التیمی بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حالت احرام میں تھے تو انہیں ایک پرندہ ہدیہ دیا گیا جب کہ وہ سوئے ہوئے تھے، لہٰذا کچھ لوگوں نے اس کا گوشت کھا لیا اور کچھ نے کھانے سے اجتناب کیا۔ پھر جب سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو اُنہوں نے گوشت کھانے والوں کی موافقت کی اور فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حالت احرام میں) پرندے کا گوشت کھایا تھا۔ یہ الفاظ جناب دورقی کی روایت کے ہیں۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو قتاده رضی اللہ عنہ کے شکار کرنے والی حدیث جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شکار کا گوشت کھانے والے صحابہ کے عمل کو درست قرار دیا تھا اور پوچھا تھا: ”کیا تمہارے پاس اس کا گوشت موجود ہے۔“ پھر گوشت ملنے پر آپ نے بھی کھایا تھا۔ وہ حدیث بھی اسی مسئله کے متعلق ہے۔ حضرت عمیر بن سلمہ الضمیری کی روایت بھی اسی مسئلہ کے متعلق ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2638]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1197، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2638، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3972، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2816، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10020، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1400»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2638 in Urdu
عبد الرحمن بن عثمان القرشي ← طلحة بن عبيد الله القرشي