صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1890. (149) باب إباحة تغطية المحرمة وجهها من الرجال، بذكر خبر مجمل، أحسبه غير مفسر
ایک مجمل غیر روایت کے ساتھ محرمہ عورت کا مردوں سے اپنا چہرہ ڈھانپنے کا بیان
حدیث نمبر: 2690
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " كُنَّا نَلْبَسُ إِذَا أَهْلَلْنَا مَا لَمْ يَمَسَّهُ طِيبٌ وَلا زَعْفَرَانٌ، وَنَلْبَسُ الْمُمَشَّقَ إِنَّمَا هُوَ طِينٌ" .
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتُ: " كُنَّا نُغَطِّي وُجُوهَنَا مِنَ الرِّجَالِ، وَكُنَّا نَمْتَشِطُ قَبْلَ ذَلِكَ" .
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتُ: " كُنَّا نُغَطِّي وُجُوهَنَا مِنَ الرِّجَالِ، وَكُنَّا نَمْتَشِطُ قَبْلَ ذَلِكَ" .
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم (حالت احرام میں) اپنے چہرے اجنبی مردوں سے ڈھانپ لیتی تھیں اور اس سے پہلے کنگھی کر لیا کرتی تھیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2690]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 1176، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2690، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1674»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2690 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2690
فوائد:
حالت احرام میں عورتیں نقاب اور دستانے نہیں پہنیں گی، لیکن اجنبی مردوں سے سامنا ہونے کی صورت میں گھونگھٹ نکالنا اور چہرے پر کپڑا لٹکانا جائز و مباح ہے۔
نیز احرام میں بے پردگی اور چہرہ نمائی کی رخصت نہیں، صرف نقاب کی ممانعت ہے، اس کے علاوہ عورت کسی بھی طریقے سے پردہ کر سکتی ہے۔
حالت احرام میں عورتیں نقاب اور دستانے نہیں پہنیں گی، لیکن اجنبی مردوں سے سامنا ہونے کی صورت میں گھونگھٹ نکالنا اور چہرے پر کپڑا لٹکانا جائز و مباح ہے۔
نیز احرام میں بے پردگی اور چہرہ نمائی کی رخصت نہیں، صرف نقاب کی ممانعت ہے، اس کے علاوہ عورت کسی بھی طریقے سے پردہ کر سکتی ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2690]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2690 in Urdu
فاطمة بنت المنذر الأسدية ← أسماء بنت أبي بكر القرشية