صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1921. (180) باب فضل استلام الركنين وذكر حط الخطايا بمسحها
حجر اسود اور رکن یمانی کی فضیلت اور ان دونوں کے استلام سے گناہوں کی بخشش کا بیان
حدیث نمبر: 2729
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ ، يَقُولُ لابْنِ عُمَرَ: مَا لِيَ لا أَرَاكَ تَسْتَلِمُ إِلا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْحَجَرَ الأَسْوَدَ، وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنْ أَفْعَلْ فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ مَسْحَهُمَا يَحُطُّ الْخَطَايَا" .
جناب عبيد بن عمیر سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا، کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں؟ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا، اگر میں صرف انہی دو ارکان کا استلام کرتا ہوں تو (اس کی وجہ یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے، ”ان دونوں ارکان کو چھونا گناہوں کی بخشش کا باعث ہے“۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2729]
تخریج الحدیث: اسناده حسن
الرواة الحديث:
عبيد بن عمير الجندعي ← عبد الله بن عمر العدوي