صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
214. (212) باب الرخصة فى التيمم للمجدور والمجروح، وإن كان الماء موجودا إذا خاف- إن ماس الماء البدن- التلف أو المرض أو الوجع المؤلم
چیچک زدہ اور زخمی شخص کے لیے پانی کی موجودگی میں بھی تیمّم کرنے کی رخصت ہے جبکہ وہ بدن پر پانی لگنے سے ہلاک ہونے، مرض بڑھنے یا شدید درد میں مبتلا ہونے سے خوف زدہ ہو
حدیث نمبر: 273
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، نا أَبِي ، أَخْبَرَنِي إِيَّاهُ الْوَلِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّ عَطَاءً حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلا أَجْنَبَ فِي شِتَاءٍ فَسَأَلَ، فَأُمِرَ بِالْغُسْلِ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا لَهُمْ؟ قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ، ثَلاثًا، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ الصَّعِيدَ أَوِ التَّيَمُّمَ طَهُورًا" ، شَكَّ فِي ابْنِ عَبَّاسٍ، ثُمَّ أَثْبَتَهُ بَعْدُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص سردیوں میں جنبی ہوگیا تو اُس نے (مسئلہ) پوچھا تو اُسے غسل کرنے کا حُکم دیا گیا۔ (اُس نے غسل کیا) تو وہ فوت ہوگیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں کیا ہوا تھا، اُنہوں نے اسے قتل کر دیا اللہّ تعالیٰ انہیں قتل کرے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ”اللہّ تعالیٰ نے مٹّی یا تیمّم کو پاک کرنے والا بنایا ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں شک ہے (اُنہوں نے مٹّی کہا یا تیمّم) پھر یہ شک ختم ہو گیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب التيمم عند الإعواز من الماء فى السفر،/حدیث: 273]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 144، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 273، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1314، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 589، وأبو داود فى (سننه) برقم: 336، 337، والدارمي فى (مسنده) برقم: 779، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 572، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1090، والدارقطني فى (سننه) برقم: 729، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3114»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 273 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي