الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
215. (213) باب استحباب التيمم فى الحضر لرد السلام، وإن كان الماء موجودا
حضر کی حالت میں سلام کا جواب دینے کے لیے تیمّم کرنا مستحب ہے اگرچہ پانی موجود ہو
حدیث نمبر: 274
نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ اللَّيْثِ ، عَنِ اللَّيْثِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ، فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام حضرت عمیر رحمہ اللہ بیان کرتے کہ میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن یسار آئے حتیٰ کہ ہم سیدنا ابوجہیم بن حارث بن صمہ انصاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ابوجہیم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمل کنویں کی جانب سے تشریف لائے تو ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا اور اُس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہ دیا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیوار کے پاس آئے (اور اپنے ہاتھوں کو دیوار پر مارکر) اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا، اُس کے سلام کا جواب دیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب التيمم عند الإعواز من الماء فى السفر،/حدیث: 274]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
عمير بن عبد الله الهلالي ← الحارث بن الصمة الأنصاري