صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1947. (206) باب ذكر الدليل [على] أن الله- عز وجل- إنما أعلم أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم أنه لا جناح عليهم فى الطواف بين الصفا والمروة
اس بات کی دلیل کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کو بتا دیا ہے کہ صفا مروہ کے درمیان سعی کرنے میں ان پر کوئی گناہ نہیں ہے
حدیث نمبر: 2768
ثنا بِخَبَرِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَتِ الأَنْصَارُ يَكْرَهُونَ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّى نَزَلَتْ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 ، زَادَ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ: فَطَافُوا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصاری صحابہ کرام صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا ناپسند کرتے تھے حتّیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی: «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ» [ سورة البقرة: 158 ] ”بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ جناب سلم بن جنادہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ پھر انہوں نے سعی کرنا شروع کردی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2768]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥عاصم بن أبي النجود الأسدي، أبو بكر عاصم بن أبي النجود الأسدي ← أنس بن مالك الأنصاري | صدوق حسن الحديث |
عاصم بن أبي النجود الأسدي ← أنس بن مالك الأنصاري