یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1948. (207) باب ذكر الدليل على أن عائشة لم ترد بقولها: " هي سنة سنها رسول الله صلى الله عليه وسلم " أن الطواف بينهما سنة يتم الحج بتركه
اس بات کی دلیل کا بیان کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس فرمان ”صفا مروہ کی سعی سنت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاری کیا ہے“ سے ان کی مراد یہ نہیں ہے کہ ان دونوں کےدرمیان سعی کرنا ایسی سنّت ہے جس کے بغیر بھی حج مکمّل ہوجاتا ہے
حدیث نمبر: 2769
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : مَا أَرَى عَلَيَّ مِنْ جُنَاحٍ أَنْ لا أَتَطَوَّفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، قَالَتْ: وَلِمَ؟ قُلْتُ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، فَقَالَتْ: لَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ، فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، إِنَّمَا أَنْزَلَ اللَّهُ هَذَا فِي أُنَاسٍ مِنَ الأَنْصَارِ كَانُوا إِذَا أَهَلُّوا، أَهَلُّوا لِمَنَاةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلا يَحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا قَدِمُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الآيَةَ، فَلَعَمْرِي مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، لأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، فَهُمَا مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهَا: فَلا يَحِلُّ لَهُمْ تُرِيدُ عِنْدَ أَنْفُسِهِمْ فِي دِينِهِمْ
حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ میری رائے یہ ہے کہ اگر میں صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کروں تو مجھ پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اُنہوں نے پوچھا، وہ کیسے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا» [ سورة البقرة: 158 ] ”پس جو بیت اللہ شریف کا حج یا عمرہ کرے تو اُس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف (سعی) کرے۔“ اُنہوں نے فرمایا کہ اگر بات ویسے ہی ہوتی ہے جیسے تُو کہہ رہا ہے تو پھر آیت اس طرح ہونی چاہیے تھی ”فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا“ (تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف نہ کرے۔) بلا شبہ یہ آیت تو انصار کے کچھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ وہ جاہلیت میں مناة بت کے نام پر احرام باندھتے تھے تو وہ اپنے لئے صفا مروہ کی سعی حلال نہیں سمجھتے تھے۔ پھر جب وہ (مسلمان ہونے کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لئے مکّہ مکرّمہ آئے تو اُنہوں نے یہ بات آپ کو بتائی، اس پر الله تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی۔ میری عمر کی قسم، جو شخص صفا اور مروہ کی سعی نہیں کریگا اللہ تعالیٰ اُس کا حج مکمّل نہیں کریگا۔ کیونکہ الله تعالیٰ فرماتا ہے «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ» [ سورة البقرة: 158 ] ”بیشک صفا اور مروہ الله تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ فرمان کہ ان کے لئے سعی کرنا حلال نہ تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کے جاہلی عقیدے کے مطابق ان کے لئے صفا مروہ کی سعی کرنا حلال نہ تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2769]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1643، 1790، 4495، 4861، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1277، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1381، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2766، 2767، 2769، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3839، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3087، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2967، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1901، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2965، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2986، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9452، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25752، والحميدي فى (مسنده) برقم: 221»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2769 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق