🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2012. ‏(‏271‏)‏ باب إباحة الأكل بين الصلاتين إذا جمع بينهما بالمزدلفة
جب مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کریںگے تو ان کے درمیان کھانا کھانا جائز ہے،
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2852
إِنْ ثَبَتَ الْخَبَرُ، فَإِنِّي لَا أَقِفُ عَلَى سَمَاعِ أَبِي إِسْحَاقَ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ‏.‏
بشرطیکہ یہ روایت ثابت ہو، کیونکہ مجھے معلوم نہیں کہ ابواسحٰق نے یہ روایت عبدالرحمٰن بن یزید سے سُنی ہے یا نہیں؟ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2852]
تخریج الحدیث:

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2852
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: أَفَاضَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مِنْ عَرَفَاتٍ عَلَى هِينَتِهِ لا يَضْرِبُ بَعِيرَهُ حَتَّى أَتَى جَمْعًا، فَنَزَلَ فَأَذَّنَ فَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ تَعَشَّى، ثُمَّ قَامَ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ بَاتَ بِجَمْعٍ حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ أَقَامَ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلاتَيْنِ يُؤَخَّرَانِ عَنْ وَقْتِهِمَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يُصَلِّيهَا فِي هَذَا الْيَوْمِ، إِلا فِي هَذَا الْمَكَانِ"، ثُمَّ وَقَفَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَرْفَعِ ابْنُ مَسْعُودٍ قِصَّةَ عَشَاءَهُ بَيْنَهُمَا، وَإِنَّمَا هَذَا مِنْ فِعْلِهِ، لا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
جناب عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ عرفات سے واپسی پر بڑے سکون و اطمینان سے چلے، انھوں نے اپنے اونٹ کو (تیز چلانے کے لئے) مارا نہیں حتّیٰ کہ وہ مزدلفہ گئے، وہ سواری سے اُترے، اذان کہلوائی پھر اقامت ہونے پر مغرب کی نماز ادا کی، پھر رات کا کھانا کھایا، پھر اُٹھ کر اذان کہلوائی اور تکبیر کہی گئی اور نماز عشاء ادا کی پھر رات مزدلفہ میں گزاری، حتّیٰ کہ جب فجرطلوع ہوگئی تو اذان کہلوائی اور اقامت پڑھی گئی پھر صبح کی نماز پڑھائی۔ پھر فرمایا: یہ دونمازیں اپنے وقت سے مؤخر کرکے ادا کی جاتی ہیں۔ اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اس دن اس جگہ پر یہ دونوں نمازیں اس طرح تاخیر سے ادا کرتے تھے۔ پھر آپ ٹھہر گئے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے دونوں نمازوں کے درمیان رات کا کھانا کھانے کا عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کیا بلکہ یہ ان کا ذاتی عمل ہے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2852]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن يزيد النخعي، أبو بكر
Newعبد الرحمن بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← عبد الرحمن بن يزيد النخعي
ثقة مكثر
👤←👥زكريا بن أبي زائدة الوادعي، أبو يحيى
Newزكريا بن أبي زائدة الوادعي ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة
👤←👥يحيى بن زكريا الهمداني، أبو سعيد
Newيحيى بن زكريا الهمداني ← زكريا بن أبي زائدة الوادعي
ثقة متقن
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم العبدي ← يحيى بن زكريا الهمداني
ثقة