صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2012. (271) باب إباحة الأكل بين الصلاتين إذا جمع بينهما بالمزدلفة
جب مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کریںگے تو ان کے درمیان کھانا کھانا جائز ہے،
حدیث نمبر: Q2852
إِنْ ثَبَتَ الْخَبَرُ، فَإِنِّي لَا أَقِفُ عَلَى سَمَاعِ أَبِي إِسْحَاقَ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ.
بشرطیکہ یہ روایت ثابت ہو، کیونکہ مجھے معلوم نہیں کہ ابواسحٰق نے یہ روایت عبدالرحمٰن بن یزید سے سُنی ہے یا نہیں؟ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2852]
تخریج الحدیث:
حدیث نمبر: 2852
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: أَفَاضَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مِنْ عَرَفَاتٍ عَلَى هِينَتِهِ لا يَضْرِبُ بَعِيرَهُ حَتَّى أَتَى جَمْعًا، فَنَزَلَ فَأَذَّنَ فَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ تَعَشَّى، ثُمَّ قَامَ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ بَاتَ بِجَمْعٍ حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ أَقَامَ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلاتَيْنِ يُؤَخَّرَانِ عَنْ وَقْتِهِمَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يُصَلِّيهَا فِي هَذَا الْيَوْمِ، إِلا فِي هَذَا الْمَكَانِ"، ثُمَّ وَقَفَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَرْفَعِ ابْنُ مَسْعُودٍ قِصَّةَ عَشَاءَهُ بَيْنَهُمَا، وَإِنَّمَا هَذَا مِنْ فِعْلِهِ، لا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
جناب عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ عرفات سے واپسی پر بڑے سکون و اطمینان سے چلے، انھوں نے اپنے اونٹ کو (تیز چلانے کے لئے) مارا نہیں حتّیٰ کہ وہ مزدلفہ گئے، وہ سواری سے اُترے، اذان کہلوائی پھر اقامت ہونے پر مغرب کی نماز ادا کی، پھر رات کا کھانا کھایا، پھر اُٹھ کر اذان کہلوائی اور تکبیر کہی گئی اور نماز عشاء ادا کی پھر رات مزدلفہ میں گزاری، حتّیٰ کہ جب فجرطلوع ہوگئی تو اذان کہلوائی اور اقامت پڑھی گئی پھر صبح کی نماز پڑھائی۔ پھر فرمایا: ”یہ دونمازیں اپنے وقت سے مؤخر کرکے ادا کی جاتی ہیں۔“ اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اس دن اس جگہ پر یہ دونوں نمازیں اس طرح تاخیر سے ادا کرتے تھے۔ پھر آپ ٹھہر گئے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے دونوں نمازوں کے درمیان رات کا کھانا کھانے کا عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کیا بلکہ یہ ان کا ذاتی عمل ہے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2852]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود