صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2024. (283) باب فضل يوم النحر
یوم النحر (دس ذوالحجہ) کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2866
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ثَوْرٌ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْظَمُ الأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ، ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَوْمَ الْقَرِّ يَعْنِي يَوْمَ الثَّانِي مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ
سیدنا عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالی کے نزدیک دنوں میں سے عظیم ترین دن قربانی کا دن ہے اور اس کے بعد دوسرا دن ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یوم القر سے مراد قربانی کا دوسرا دن ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2866]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2866، 2917، 2966، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2811، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7617، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4083، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1765، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10324، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19381»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن قرة الثمالي | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن لحي الهوزني، أبو عامر عبد الله بن لحي الهوزني ← عبد الله بن قرة الثمالي | ثقة | |
👤←👥راشد بن سعد المقرائي راشد بن سعد المقرائي ← عبد الله بن لحي الهوزني | ثقة | |
👤←👥ثور بن يزيد الرحبي، أبو خالد ثور بن يزيد الرحبي ← راشد بن سعد المقرائي | ثقة ثبت إلا أنه يرى القدر | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← ثور بن يزيد الرحبي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2866 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2866
فوائد:
◈ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث دلیل ہے کہ دس ذوالحجہ کا دن تمام ایام سے افضل ہے اور ایک حدیث میں ہے کہ بہترین دن یومِ جمعہ ہے۔
➊ ان احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ ہفتہ کے دنوں سے جمعہ کا دن افضل ہے اور سال بھر کے تمام دنوں سے دس ذوالحجہ کا دن افضل ہے، اور یومِ نحر جمعہ سمیت تمام ایام سے افضل ہے اور یومِ جمعہ ایامِ ہفتہ سے افضل ہے۔
➋ پھر اگر یہ دونوں دن ایک دن جمع ہو جائیں تو دونوں فضیلتیں لاگو ہوں گی اور اگر دونوں دن مختلف ہوں تو یومِ نحر افضل و اعظم ہے۔ [عون المعبود]
➌ دس ذوالحجہ کو قربانی کرنا گیارہ اور بارہ ذوالحجہ میں قربانی کرنے سے افضل ہے، کیونکہ دس ذوالحجہ کا دن ذوالحجہ کے ابتدائی مبارک دس دنوں میں شامل ہے۔
◈ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث دلیل ہے کہ دس ذوالحجہ کا دن تمام ایام سے افضل ہے اور ایک حدیث میں ہے کہ بہترین دن یومِ جمعہ ہے۔
➊ ان احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ ہفتہ کے دنوں سے جمعہ کا دن افضل ہے اور سال بھر کے تمام دنوں سے دس ذوالحجہ کا دن افضل ہے، اور یومِ نحر جمعہ سمیت تمام ایام سے افضل ہے اور یومِ جمعہ ایامِ ہفتہ سے افضل ہے۔
➋ پھر اگر یہ دونوں دن ایک دن جمع ہو جائیں تو دونوں فضیلتیں لاگو ہوں گی اور اگر دونوں دن مختلف ہوں تو یومِ نحر افضل و اعظم ہے۔ [عون المعبود]
➌ دس ذوالحجہ کو قربانی کرنا گیارہ اور بارہ ذوالحجہ میں قربانی کرنے سے افضل ہے، کیونکہ دس ذوالحجہ کا دن ذوالحجہ کے ابتدائی مبارک دس دنوں میں شامل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2866]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2866 in Urdu
عبد الله بن لحي الهوزني ← عبد الله بن قرة الثمالي