صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2049. (308) باب استحباب توجيهه الذبيحة للقبلة، والدعاء عند الذبح.
قربانی کرتے وقت جانور کو قبلہ رخ کرنا اور دعا پڑھنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 2899
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ ، وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ يَوْمَ الْعِيدِ كَبْشَيْنِ، ثُمَّ قَالَ حِينَ وَجَّهَهُمَا:" إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ سورة الأنعام آية 79 , إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ سورة الأنعام آية 162 - 163، بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ مِنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ"
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید قربان کے دن دو مینڈھے ذبح کیے، پھر جب انہیں قبلہ رخ لٹایا تو یہ آیت پڑھی «إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [ سورة الأنعام: 79] ”بیشک میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طرف مرکوز کرلیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے میں اسی (اللہ) کا پرستار ہوں اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔“ اور یہ آیت پڑھی «قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» ”بیشک میری نماز میری قربانی میری زندگی اور میری موت،(سب کچھ) الله رب العالمین ہی کے لئے ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی (بات یعنی توحید) کا حُکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔“ «اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ، بِسْمِ اللهِ، اللهُ أَكْبَرُ» [ سورة الأنعام: 163،162 ] ”اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں۔ اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ تیرے ہی دیئے ہوئے (رزق) سے قربانی کررہا ہوں اور تیری ہی خوشنودی کے حصول کے لئے کررہا ہوں اسے محمد اور آپ کی اُمّت کی طرف سے قبول فرما۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2899]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2899، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1722، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2795، 2810، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1521، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1989، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3121، 3122، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19078، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4744، 4760، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15066»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2899 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2899
فوائد:
➊ قربانی کا جانور قبلہ رخ ذبح کرنا مستحب فعل ہے۔
◈ ابن قدامہ کہتے ہیں: ذبح کو قبلہ رخ کرنا مستحب فعل ہے، لیکن اگر ذبح کرتے وقت صرف بسم اللہ پر اکتفا کیا جائے اور جانور کو قبلہ رخ نہ کیا جائے تو یہ افضل کو ترک کرنا ہے۔
قاسم بن محمد، نخعی، ثوری، شافعی اور ابن منذر اسی موقف کے قائل ہیں۔ [المغنی لابن قدامہ: 182/7]
➋ ◈ شوکانی بیان کرتے ہیں کہ جانور کو ذبح کرتے وقت قبلہ رخ کر کے مذکورہ آیت اور ذکر کا اہتمام کرنا مستحب فعل ہے۔ [نیل الاوطار: 129/5]
➊ قربانی کا جانور قبلہ رخ ذبح کرنا مستحب فعل ہے۔
◈ ابن قدامہ کہتے ہیں: ذبح کو قبلہ رخ کرنا مستحب فعل ہے، لیکن اگر ذبح کرتے وقت صرف بسم اللہ پر اکتفا کیا جائے اور جانور کو قبلہ رخ نہ کیا جائے تو یہ افضل کو ترک کرنا ہے۔
قاسم بن محمد، نخعی، ثوری، شافعی اور ابن منذر اسی موقف کے قائل ہیں۔ [المغنی لابن قدامہ: 182/7]
➋ ◈ شوکانی بیان کرتے ہیں کہ جانور کو ذبح کرتے وقت قبلہ رخ کر کے مذکورہ آیت اور ذکر کا اہتمام کرنا مستحب فعل ہے۔ [نیل الاوطار: 129/5]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2899]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2899 in Urdu
أبو عياش بن النعمان المعافري ← جابر بن عبد الله الأنصاري