پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
227. (225) باب نضح الثوب من المذي إذا خفي موضعه فى الثوب
جب کپڑے میں مذی لگنے کے مقام کا پتہ نہ ہو تو اس پر پانی چھڑکنے کا بیان
حدیث نمبر: 291
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا ابْنُ عُلَيَّةَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَّانَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً وَعَناءً، وَكُنْتُ أُكْثِرُ الاغْتِسَالَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا يُجْزِيكَ الْوُضُوءُ"، قُلْتُ: فَكَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ؟ قَالَ:" يَكْفِيكَ أَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ تَنْضَحُ بِهِ مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَ" . وَقَالَ ابْنُ أَبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدِيثُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْمَذْيِ، قَالَ:" فِيهِ الْوُضُوءُ"، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ بِمَا يُصِيبُ ثِيَابَنَا؟ قَالَ:" يَكْفِيكَ أَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَنْضَحَ بِهِ ثَوْبَكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَ"، قَدْ أَمْلَيْتُهُ قَبْلَ أَبْوَابِ الْمَذْيِ
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مذی کی وجہ سے بڑی سختی اور تکلیف کا سامنا کرتا تھا۔ اور اُس کی وجہ سے بکثرت غسل کیا کرتا تھا۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اُسکے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں صرف وضو کرنا کافی ہے۔“ میں نے عرض کیا کہ مذی میرے کپڑوں کو لگ جائے اُسے کیسے صاف کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لئے کافی ہے کہ تو ایک چُلّو پانی لے اور تیرے خیال میں جہاں مذی لگی ہو وہاں کپڑے پر چھڑک دے۔“ ابن ابان کہتے ہیں کہ مجھے سعید بن عبید بن سباق نے حدیث بیان کی ہے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کی حدیث کہ اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کے متعلق پوچھا، (تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اس میں وضو کرنا چاہیے۔ میں نےعرض کیا: جو ہمارے کپڑوں کو لگ جائے اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حُکم ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے کافی ہے کہ تُو ایک چُلّو پانی لیکراپنے کپڑے پرچھڑک دے جہاں تیرے خیال میں مذی لگی ہے“ میں مذی کے متعلق ابواب سے پہلے املاء کرواچکا ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس/حدیث: 291]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 291، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1103، وأبو داود فى (سننه) برقم: 210، والترمذي فى (جامعه) برقم: 115، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 506، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4194، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16220»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 291 in Urdu
عبيد بن السباق الثقفي ← سهل بن حنيف الأنصاري