صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2083. (342) باب استحباب الشرب من ماء زمزم بعد الفراغ من طواف الزيارة.
طواف زیارہ سے فارغ ہونے پر آبِ زمزم پینا مستحب ہے
حدیث نمبر: 2944
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: ثُمَّ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَيْتِ يَعْنِي يَوْمَ النَّحْرِ، فَأَتَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُمْ يَسْقُونَ عَلَى زَمْزَمَ، فَقَالَ: " انْزَعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَوْلا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ"، فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْهُ
جناب جعفر بن محمد اپنے والد گرامی محمد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، پھر طویل حدیث بیان کی اور فرمایا، پھر قربانی والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف افاضہ کیا۔ پھر آپ بنی عبدالمطلب کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ زمزم کے کنویں سے پانی پلا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنی عبدالمطلب، پانی نکالو، اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ تمھارے پانی پلانے پر تم پر غالب آ جائیں گے تو میں بھی تمھارے ساتھ کنویں سے پانی نکالتا۔ چنانچہ اُنھوں نے پانی کا ایک ڈول آپ کو پیش کیا تو آپ نے اُس میں سے پیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2944]
تخریج الحدیث: تقدم۔۔۔
الرواة الحديث:
محمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري