🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2107. ‏(‏366‏)‏ باب خطبة الإمام أوسط أيام التشريق‏.‏
امام کا ایام تشریق کے درمیانی دن خطبہ دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2973
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ زِيَادِ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حِصْنٍ ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي سَرَّاءُ بِنْتُ نَبْهَانَ وَكَانَتْ رَبَّةَ بَيْتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الرُّءُوسِ فَقَالَ:" أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" أَلَيْسَ الْمَشْعَرُ الْحَرَامِ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" أَلَيْسَ أَوْسَطُ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ زَادَ إِسْحَاقُ وَأَعْرَاضَكُمْ، وَقَالا: وَأَمْوَالَكُمْ، عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا"، زَادَ إِسْحَاقُ:" فَلْيُبَلِّغْ أَدْنَاكُمْ أَقْصَاكُمْ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟"
حضرت براء بنت نبہان بیان کرتی ہیں کہ یہ زمانہ جاہلیت میں ایک بت کدے کی نگران تھیں وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوم الرؤوس (سری کھانے کے دن بارہ ذوالحجہ) کو خطبہ ارشاد فرمایا تو کہا: یہ کونسا شہر ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بخوبی جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا یہ مشعر حرام نہیں ہے؟ ہم نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔ آپ نے پوچھا: آج کونسا دن ہے؟ ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا یہ ایام تشریق کا درمیانی دن نہیں ہے؟ ہم نے جواب دیا کہ کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس بیشک تمھارے خون اسحاق کی روایت میں اضافہ ہے کہ اور تمھاری عزّتیں اور تمہارے مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارا آج کا دن تمہارے اس مہینے اور تمہارے اس شہر میں حرمت والا ہے۔ جناب اسحاق نے یہ اضافہ بیان کیا ہے لہٰذا چاہیے کہ تم میں سے نزدیک والا شخص دور والے کو یہ احکام پہنچا دے۔ اے اللہ، کیا میں نے تیرے احکام پہنچا دیے، اے اللہ کیا میں نے تیرا دین پہنچا دیا۔ اے الله کیا میں نے تیری شریعت اور رسالت ان تک پہنچا دی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2973]
تخریج الحدیث: اسناده ضعيف

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥السراء بنت نبهان الغنويةصحابي
👤←👥ربيعة بن عبد الرحمن الغنوي
Newربيعة بن عبد الرحمن الغنوي ← السراء بنت نبهان الغنوية
مقبول
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم
Newالضحاك بن مخلد النبيل ← ربيعة بن عبد الرحمن الغنوي
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن زياد الأبلي
Newإسحاق بن زياد الأبلي ← الضحاك بن مخلد النبيل
مقبول
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← إسحاق بن زياد الأبلي
ثقة حافظ