صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2111. (370) باب ذكر الدليل على أن النبى صلى الله عليه وسلم إنما رخص للرعاء فى ترك رمي الجمار يوما،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو ایام تشریق کے دنوں میں رخصت دی ہے کہ وہ ایک دن رمی کرلیں اور دوسرے دن جانور چرائیں۔
حدیث نمبر: 2979
وَيَرْعُوا يَوْمًا فِي يَوْمَيْنِ مِنْ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، الْيَوْمِ الْأَوَّلِ يَرْعُوا فِيهِ، وَيَرْمُوا يَوْمَ الثَّانِي، ثُمَّ يَرْمُوا يَوْمَ النَّفْرِ، لَا أَنَّهُ رَخَّصَ لَهُمْ فِي تَرْكِ رَمْيِ الْجِمَارِ يَوْمَ النَّحْرِ، وَلَا يَوْمَ النَّفْرِ الْآخَرِ، وَإِنَّهُمْ إِنَّمَا يَجْمَعُونَ بَيْنَ رَمْيِ أَوَّلِ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَالْيَوْمِ الثَّانِي فَيَرْمُونَهَا فِي أَحَدِ الْيَوْمَيْنِ، إِمَّا يَوْمُ الْأَوَّلِ وَإِمَّا يَوْمُ الثَّانِي مِنْ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ.
ایام تشریق میں سے پہلے دن جانور چراتے رہیں دوسرے دن (اکٹھی) رمی کرلیں۔ پھر روانگی کے دن رمی کرلیں، یہ مطلب نہیں کہ آپ نے انہیں قربانی کے دن یا روانگی کے دن رمی چھوڑنے کی رخصت دی ہے۔ بلکہ آپ نے انہیں یہ رخصت دی ہے کہ وہ ایام تشریق کے پہلے دو دنوں کر رمی اکٹھی کرلیں گے، چاہے ایام تشریق کے پہلے دن کرلیں چاہے دوسرے دن کرلیں [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2979]
تخریج الحدیث:
حدیث نمبر: 2979
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ ابْنَ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِرُعَاةِ الإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ، يَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ يَرْمُونَ الْغَدَ، أَوْ مِنْ بَعْدِ الْغَدِ لِيَوْمَيْنِ، ثُمَّ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّفَرَةِ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبُو الْبَدَّاحِ هُوَ ابْنُ عَاصِمِ بْنُ عَدِيٍّ، وَمَنْ قَالَ عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ نَسَبَهُ إِلَى جَدِّهِ، وَعَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ هَذَا هُوَ الْعَجْلانِيُّ صَاحِبُ قِصَّةِ اللِّعَانِ الْمَذْكُورُ فِي خَبَرِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ
سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے چرواہوں کو منیٰ سے باہر راتیں گزارنے کی اجازت دی تھی، وہ قربانی والے دن کنکریاں ماریںگے، پھر وہ عید کے دوسرے یا تیسرے دن (دو دن کی اکٹھی کنکریاں ماریںگے، پھر روانگی کے دن جمرات پر کنکریاں ماریںگے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ابوالبداح سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں اور جس راوی نے ابوالبداح بن عدی سے بیان کیا ہے تو اس نے ان کی نسبت ان کے دادا کی طرف کر دی ہے۔ سیدنا عاصم بن عدی عجلانی رضی اللہ عنہ ہیں جن کا لعان کا قصّہ حضرت سہل بن سعد کی روایت میں مذکور ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2979]
تخریج الحدیث:
الرواة الحديث:
عدي بن عاصم العجلاني ← عاصم بن عدي العجلاني