🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2114. ‏(‏373‏)‏ باب ذكر الدليل على أن النبى صلى الله عليه وسلم قد كان أعلمهم وهو بمنى أن ينزل بالأبطح‏.‏
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو منیٰ ہی میں بتادیا تھا کہ آپ وادی ابطح میں ٹھہریں گے۔ اور سیدنا ابو رافع کے اس قول سے ان کی مراد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2984
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْرَ الأَيْلِيُّ ، أَنَّ سَلامَةَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حِينَ أَرَادَ أَنْ يَنْفِرَ مِنْ مِنًى: " نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ" ، يَعْنِي بِذَلِكَ الْمُحَصَّبَ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ سَوَاءً، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: سُؤَالُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ يَنْزِلُ غَدًا فِي حَجَّتِهِ إِنَّمَا هُوَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَأَمَّا آخِرُ الْقِصَّةِ:" لا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ"، فَهُوَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ، وَمَعْمَرٌ، فِيمَا أَحْسِبُ وَاهِمًا فِي جَمْعِهِ الْقِصَّتَيْنِ فِي هَذَا الإِسْنَادِ، وَقَدْ بَيَّنْتُ عِلَّةَ هَذَا الْخَبَرِ فِي كِتَابِ الْكَبِيرِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ سے روانگی کا ارادہ کرتے وقت فرمایا: ہم کل ان شاء اللہ، خیف بنی کنانہ میں اُتریں گے جہاں انھوں نے کفر پر اتحاد کی باہمی قسمیں اُٹھائی تھیں۔ آپ کی مراد وادی محصب تھی۔ پھر بقیہ روایت اوپر والی روایت کی مثل بیان کی ہے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کہ آپ اپنے حج میں کل (مکّہ مکرّمہ میں) کہاں اُتریں گے۔ یہ روایت امام زہری نے ابوسلمہ کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے۔ جبکہ اس روایت کے آخر میں مذکورہ یہ قصّہ کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں ہوگا اور نہ کوئی کا فرکسی مسلمان کا وارث بنے گا، یہ علی بن حسین کی عمرو بن عثمان کے واسطے سے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں مروی ہے۔ میرے خیال میں معمر راوی کو وہم ہوا ہے اور اس واقعات کو اس سند کے ساتھ یکجا کردیا ہے۔ میں روایت کی علت کتاب الکبیر میں بیان کردی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2984]
تخریج الحدیث: تقدم۔۔۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥عقيل بن خالد الأيلي، أبو خالد
Newعقيل بن خالد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥سلامة بن روح القرشي، أبو خربق، أبو روح، أبو جرير
Newسلامة بن روح القرشي ← عقيل بن خالد الأيلي
صدوق له أوهام
👤←👥محمد بن عزيز الأيلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عزيز الأيلي ← سلامة بن روح القرشي
مقبول