🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
232. ‏(‏ 230‏)‏ باب استحباب نضح الأرض من ربض الكلاب عليها
زمین پر کُتّے کے بیٹھنے سے اس پر پانی چھڑکنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 299
نا مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْرٍ الأَيْلِيُّ ، أَنَّ سَلامَةَ بْنَ رَوْحٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُقَيْلٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ وَاجِمٌ يُنْكَرُ مَا يُرَى مِنْهُ، فَسَأَلْتُهُ عَمَّا أَنْكَرْتُ مِنْهُ، فَقَالَ لَهَا:" وَعَدَنِي جِبْرِيلُ أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ، فَلَمْ أَرَهُ، أَمَا وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي"، قَالَتْ مَيْمُونَةُ:" وَكَانَ فِي بَيْتِي جَرْوٌ كَلْبٌ تَحْتَ نَضَدٍ لَنَا، فَأَخْرَجَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَضَحَ مَكَانَهُ بِالْمَاءِ بِيَدِهِ"، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ لَقِيَهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَدْتَنِي , ثُمَّ لَمْ أَرَكَ؟ فَقَالَ جِبْرِيلُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا لا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلا كَلْبٌ"
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن غمگین اور اُداس حالت میں صُبح کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت خلافِ معمول تھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس خلاف معمول حالت کا سبب پو چھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام نے آج رات مجھے ملنے کا وعدہ کیا تھا لیکن میں نے اُنہیں دیکھا نہیں، اللہ کی قسم، اُنہوں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے گھر میں پلنگ کے نیچے ایک کُتّے کا چھوٹا بچّہ بیٹھا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے باہر نکال دیا پھر اپنے ہاتھ سے اُس جگہ پانی چھڑکا۔ پھر جب رات ہوئی تو جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے کہا: آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا پھر میں نے آپ کو دیکھا نہیں؟ (اس کی کیا وجہ تھی؟) تو جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ بیشک ہم اُس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر یا کُتّا ہو۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس/حدیث: 299]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2105، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 299، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5649، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4287، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4157، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1170، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27442»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ميمونة بنت الحارث الهلاليةصحابية
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← ميمونة بنت الحارث الهلالية
صحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥عقيل بن خالد الأيلي، أبو خالد
Newعقيل بن خالد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥سلامة بن روح القرشي، أبو خربق، أبو روح، أبو جرير
Newسلامة بن روح القرشي ← عقيل بن خالد الأيلي
صدوق له أوهام
👤←👥محمد بن عزيز الأيلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عزيز الأيلي ← سلامة بن روح القرشي
مقبول
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 299 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 299
فوائد:
➊ بعض علماء نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ کتا نجس ہے اور انہوں نے نضح سے دھونا مراد لیا ہے، لیکن مالکیہ نے اس حدیث کے معنی میں تاویل کی ہے کہ جس جگہ کتے کا پلا بیٹھا تھا، اسے اس خطرہ کے پیش نظر دھویا گیا کہ اس نے کہیں پیشاب یا پاخانہ نہ کر دیا ہو۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 82/14]
➋ جس گھر میں کتا اور تصویر ہو وہاں رحمت، برکت اور استغفار کے فرشتے داخل نہیں ہوتے، جب کہ کراماً کاتبین ہمیشہ انسان کے ساتھ رہتے ہیں۔
➌ وعدے کے بعد اگر کوئی شرعی رکاوٹ آ جائے تو ایسے وعدے کو موخر کرنا تا وقتیکہ رکاوٹ ختم ہو جائے، درست ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 299]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 299 in Urdu