صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2129. (388) باب ذكر المكان الذى صلى فيه النبى صلى الله عليه وسلم من الكعبة
اس مقام کا ذکر جہاں بیت اللہ کے اندر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازپڑھی
حدیث نمبر: 3010
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْعَبَّاسِ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَبْدُ الْجَبَّارِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، سَمِعَهُ مِنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ: عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لأُسَامَةَ حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ بِالْمِفْتَاحِ، فَذَهَبَ إِلَى أُمِّهِ، فَأَبَتْ أَنْ تُعْطِيَهُ، فَقَالَ: لَتُعْطِينِيهِ أَوْ لَيُخْرِجَنَّ السَّيْفَ مِنْ صُلْبِي، فَدَفَعَتْ إِلَيْهِ فَفَتَحَ الْبَابَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَخَلَ مَعَهُ عُثْمَانُ، وَبِلالٌ، وَأُسَامَةُ، فَأَجَافُوا الْبَابَ مَلِيًّا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَكُنْتُ رَجُلا شَابًّا قَوِيًّا فَبَدَرَ النَّاسُ فَبَدَرْتُهُمْ، فَوَجَدْتُ بِلالا قَائِمًا عَلَى الْبَابِ، قَالَ: يَا بِلالُ ، أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ" ، وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکّہ والے دن سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی اونٹنی پر سوار ہوکر مسجد حرام میں داخل ہوئے۔ آپ نے اپنی اونٹنی کعبہ شریف کے صحن میں بٹھائی پھر عثمان بن طلحہ کو چابی لانے کا حُکم دیا تو وہ اپنی والدہ کے پاس چابی لینے گیا، اس کی والدہ نے چابی دینے سے انکار کردیا وہ کہنے لگے کہ تم ضرور چابی دیدو وگرنہ تلوار میری کمر کے پار ہو جائیگی (مجھے قتل کردیا جائیگا) تواس نے اسے چابی دیدی پھر اس نے بیت اللہ شریف کا دروازه کھول دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوگئے۔ پھر انھوں نے کچھ دیر دروازہ اندر سے بند کرلیا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں طاقتور جوان آدمی تھا۔ لوگوں نے بیت اللہ شریف کی طرف جلدی کی تو میں اُن سب سے پہلے وہاں پہنچ گیا۔ میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بیت الله شریف کے دروازے پر کھڑا پایا۔ میں نے پوچھا کہ اے بلال، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ اُنھوں نے جواب دیا کہ اگلے دو ستونوں کے درمیان پڑھی ہے لیکن میں اُن سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی نماز پڑھی ہے۔ یہ روایت محمد بن عمرو کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3010]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
عبد الله بن عمر العدوي ← بلال بن رباح الحبشي