الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2142. (401) باب إسقاط الهدي عن المعتمر بعد مضي أيام التشريق وإن كان قد حج من عامه ذلك.
قربانی کے دن گزر جانے کے بعد عمرہ کرنے والے سے قربانی ساقط ہوجاتی ہے اگرچہ اس نے اسی سال حج کیا ہو (یعنی خاص عذر کے وجہ سے حج سے پہلے عمرہ نہیں ہوسکا تھا اور پھر حج کے بعد عمرہ کیا)
حدیث نمبر: 3028
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلالِ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِحَجَّةٍ فَلْيُهِلَّ"، فَلَوْلا أَنِّي أَهْدَيْتُ لأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، فَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ، فَحِضْتُ قَبْلَ أَنْ أَدْخُلَ مَكَّةَ، فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" دَعِي عُمْرَتَكِ، وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ"، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَرْدَفَهَا، فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِهَا، فَقَضَى اللَّهُ حَجَّتَهَا وَعُمْرَتَهَا، وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ هَدْيٌ، وَلا صِيَامٌ وَلا صَدَقَةٌ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ كُنْتُ بَيَّنْتُ فِي الْمَسْأَلَةِ الَّتِي كُنْتُ أَمْلَيْتُهَا فِي التَّأْلِيفِ بَيْنَ الأَخْبَارِ الَّتِي رُوِيَتْ فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَائِشَةَ إِنَّمَا تَرَكَتِ الْعَمَلَ لِعُمْرَتِهَا الَّتِي لَمْ يُمْكِنْهَا الطَّوَافُ لَهَا بِالْبَيْتِ لِعِلَّةِ الْحَيْضَةِ الَّتِي حَاضَتْهَا، لا أَنَّهَا رَفَضَتْ تِلْكَ الْعُمْرَةَ، وَبَيَّنْتُ فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ أَنَّ فِيَ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا:" طَوَافُكِ يَكْفِيكِ بِحَجَّتِكِ وَعُمْرَتِكِ"، دَلالَةٌ عَلَى أَنَّهَا لَمْ تَرْفُضْ عُمْرَتَهَا، وَإِنَّمَا تَرَكَتِ الْعَمَلَ لَهَا إِذْ كَانَتْ حَائِضًا، وَلَمْ يُمْكِنْهَا الطَّوَافَ لَهَا، وَبَيَّنْتُ أَنَّ قَوْلَهُ، وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ فِي ذَلِكَ هَدْيٌ، وَلا صَدَقَةٌ، وَلا صِيَامٌ أَنَّهَا أَرَادَتْ لَمْ يَكُنْ فِي عُمْرَتِي الَّتِي اعْتَمَرْتُهَا بَعْدَ الْحَجِّ هَدْيٌ، وَلا صَدَقَةٌ، وَلا صِيَامٌ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ هَذَا التَّأْوِيلِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ قَبْلَ أَنْ تَعْتَمِرَ عَائِشَةُ هَذِهِ الْعُمْرَةَ مِنَ التَّنْعِيمِ، أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَهَا: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ أُدْخِلَ عَلَيْنَا بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْنَا مَا هَذَا؟ فَقِيلَ:" نَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ"، فَقَدْ خَبَّرَتْ عَائِشَةُ أَنَّهُ قَدْ كَانَ فِي حَجِّهَا هَدْيٌ قَبْلَ أَنْ تَعْتَمِرَ مِنَ التَّنْعِيمِ، وَفِي خَبَرِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ فِي آخِرِ الْخَبَرِ، قَالَ: تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اخْرُجِي مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي بِعُمْرَتِكِ"، فَفَعَلْتُ، ثُمَّ لَمْ أَهْدِ شَيْئًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذوالحجہ کے شروع میں (سفر حج کے لئے نکلے)۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو صرف عمرے کا تلبیہ کہنا چاہے وہ صرف عمرے کا تلبیہ پکارے، اور جو حج کا احرام باندھنا چاہے تو وہ باندھ لے اگر میں قربانی کا جانور ساتھ لے کر نہ آ تا تو میں بھی عمرے کا تلبیہ پکارتا۔ لہذا کچھ صحابہ کرام نے عمرے کا احرام باندھا اور کچھ نے حج کا احرام باندھا۔ پھر مکّہ مکرّمہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی مجھے حیض شروع ہو گیا پھر عرفہ کے دن تک میں حائضہ ہی رہی۔ میں نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو آپ نے فرمایا: ”اپنے عمرے کے اعمال چھوڑ دو اور سر کے بال کھول کر کنگھی کرلو اور پھر حج کا احرام باندھ لو۔ پھر جب وادی محصب والی رات آئی تو آپ نے میرے ساتھ سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو تنعیم بھیجا۔ انھوں نے مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر سوار کرلیا۔ تو میں نے اپنے عمرے کی جگہ وہاں سے عمرے کا احرام باندھا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اماں جی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا حج اور عمرہ دونوں مکمّل کرادیے لیکن اس میں (بطور کفّارہ) کوئی قربانی، روزے یا صدقہ نہیں دینا پڑا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں مختلف روایات کو باہم متفق اور متحد کرتے وقت میں نے یہ مسئلہ بیان کیا تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے عمرے کے اعمال صرف اس لئے چھوڑے تھے کہ وہ حیض کی وجہ سے بیت الله شریف کا طواف نہیں کرسکتی تھیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ انھوں نے عمره فسخ کردیا تھا۔ میں نے اسی مقام پر یہ بھی بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تمھارا ایک ہی طواف تمھارے حج اور عمرے کے لئے کافی ہوگا۔“ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انھوں نے عمرہ ترک نہیں کیا تھا بلکہ انھوں نے حیض آنے کی وجہ سے عارضی طور پر اس کے اعمال ادا کرنے چھوڑ دیے تھے کیونکہ ان کے لئے حیض کی وجہ سے طواف کرنا ممکن نہیں تھا۔ اور میں نے یہ بھی بیان کردیا تھا کہ حدیث کے یہ الفاظ کہ اس سلسلے میں انھیں کوئی قربانی، روزے اور صدقہ نہیں دینا پڑا اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ حج کے بعد جو عمرہ ادا کیا تھا اس میں کوئی قربانی، روزے یا صدقہ نہیں کیا تھا۔ اس تاویل کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے تنعیم سے ادا کرنے والے اس عمرے سے پہلے نبی کریم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے گائے کی قربانی کی تھی۔ کیا آپ نے اماں جی کے یہ کلمات نہیں سنے، پھر جب قربانی کا دن آیا تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا۔ ہم نے پوچھا کہ یہ کیسا گوشت ہے؟ انھیں بتایا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے۔ اس طرح اماں جی نے بتادیا کہ ان کے عمرہ تنعیم سے پہلے ان کے حج میں قربانی کی گئی تھی۔ جناب محمد بن عبد الرحمٰن بن نوفل کی روایت کے آخر میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپ نے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ا پنے بھائی) عبدالرحمٰن کے ساتھ تنعیم چلی جاؤ اور وہاں سے اپنے عمرے کا احرام باندھ لو“ تو میں نے ایسے ہی کیا پھر کوئی قربانی بھی نہیں کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3028]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← هشام بن عروة الأسدي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق