صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2149. (408) باب النهي عن أن يحج عن الميت من لم يحج عن نفسه،
جس شخص نے اپنا حج نہ کیا ہو وہ میت کی طرف سے حج بدل بھی نہیں کرسکتا
حدیث نمبر: Q3039
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْأَخْبَارَ الَّتِي ذَكَرْتُ فِي أَنَّهَا مُجْمَلَةٌ غَيْرُ مُفَسَّرَةٍ عَلَى مَا ذَكَرْتُ، إِذْ لَيْسَ فِي تِلْكَ الْأَخْبَارِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ مَنْ أَمَرَهُ أَنْ يَحُجَّ عَنْ غَيْرِهَا هَلْ حَجَّ عَنْ نَفْسِهِ أَمْ لَا؟ هَذَا الْخَبَرُ دَالٌّ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَمَرَ مَنْ قَدْ حَجَّ عَنْ نَفْسِهِ أَنْ يَحُجَّ عَنْ غَيْرِهِ، لَا مَنْ لَمْ يَحُجَّ عَنْ نَفْسِهِ.
حدیث نمبر: 3039
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلا يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ:" مَنْ شُبْرُمَةُ؟" فَقَالَ: أَخِي أَوْ قَرِيبٌ لِي، قَالَ: " هَلْ حَجَجْتَ؟" قَالَ: لا، قَالَ:" فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْكَ، ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَانَ أَنَّ الْمُلَبِّيَ عَنْ غَيْرِهِ إِذَا لَمْ يَكُنْ قَدْ حَجَّ عَنْ نَفْسِهِ عَلَيْهِ أَنْ يَجْعَلَ تِلْكَ الْحَجَّةَ عَنْ نَفْسِهِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ان الفاظ میں حج کی نیت کر تے ہوئے سنا کہ اے اللہ، میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں۔ آپ نے پوچھا: ”شبرمہ کون ہے؟“ اُس نے عرض کیا؟ میرا بھائی یا میرا قریبی رشتہ دار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اپنی طرف سے بھی حج کرلیا ہے؟“ اُس نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس حج کو اپنی طرف سے ادا کرو پھر شبرمہ کی طرف سے ادا کرنا۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس روایت میں ہے کہ جو شخص کسی دوسرے شخص کی طرف سے تلبیہ پکارے اور اُس نے اپنا حج نہ کیا ہو تو اُسے وہ حج اپنی طرف سے ادا کرنا چاہیے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3039]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 548، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 3039، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3988، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1811، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2903، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8766، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2642، وأخرجه ابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 13539»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 3039 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 3039
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ حج میں کسی شخص کو نائب بنانا جائز ہے اور نیابت کی شرط یہ ہے کہ نائب نے پہلے اپنی طرف سے فرض حج ادا کیا ہو۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ حج میں کسی شخص کو نائب بنانا جائز ہے اور نیابت کی شرط یہ ہے کہ نائب نے پہلے اپنی طرف سے فرض حج ادا کیا ہو۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 3039]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 3039 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي