یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
241. (8) باب ذكر الدليل على أن الحد الذى أصابه هذا السائل
اس بات کی دلیل کا بیان کہ اس سائل نے جس حدکا ارتکاب کیا تھا
حدیث نمبر: Q312
فَأَعْلَمَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ اللَّهَ قَدْ عَفَا عَنْهُ بِوُضُوئِهِ وَصَلَاتِهِ كَانَ مَعْصِيَةٌ ارْتَكَبَهَا دُونَ الزِّنَا الَّذِي يُوجِبُ الْحَدَّ " إِذْ كُلُّ مَا زَجَرَ اللَّهُ عَنْهُ قَدْ يَقَعُ عَلَيْهِ اسْمُ حَدٍّ،
اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے وضو اور نماز کی ادائیگی سے معاف کردیا ہے وہ حد واجب کرنے والے زنا سے کم گناہ کا ارتکاب تھا [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: Q312]
حدیث نمبر: Q312
وَلَيْسَ اسْمُ الْحَدِّ إِنَّمَا يَقَعُ عَلَى مَا يُوجِبُ جَلْدًا أَوْ رَجْمًا أَوْ قَطْعًا قَطُّ. قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي ذِكْرِ الْمُطَلَّقَةِ: [لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ [اللَّهِ] فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ] [الطَّلَاقِ: 1] قَالَ: (تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا] [الْبَقَرَةِ: 229] ، فَكُلُّ مَا زَجَرَ اللَّهُ عَنْهُ فَاسْمُ الْحَدِّ وَاقِعٌ عَلَيْهِ، إِذِ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- قَدْ أَمَرَ بِالْوُقُوفِ عِنْدَهُ فَلَا يُجَاوَزُ وَلَا يُتَعَدَّى
کیونکہ ہر وہ کام جس سے الله تعالیٰ سختی سے منع کریں اس پر حد کا اطلاق ہو جاتا ہے، حد صرف اس گناه ہی کو نہیں کہتے جو کوڑے، رجم یا ہاتھ پاؤں کاٹنے کو واجب کر دیتا ہے، اللہ تعالی نے مطلقہ عورت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: «لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ .... فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ» [ سورة الطلاق ] ”تم اُنہیں اُن کے گھروں سے مت نکالو اور نہ وہ از خود نکلیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کھلی برائی کر بیٹھیں یہ الله کی مقرر کردہ حدیں ہیں۔ جو شخص الله کی حدوں سے آگے بڑھ جائے اس نے یقیناً اپنے اوپر ظلم کیا۔“ اور ارشاد باری تعالی ہے: «تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا» [ سورة البقرة ] ”یہ اللہ تعالی کی حدیں ہیں تو ان سے تجاوز نہ کرو۔“ لہذا جس کام سے اللہ تعالی نے ڈانٹا ہے اُس پر حد کا اطلاق ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اُن حدوں پر ٹھرنے کا حُکم دیا ہے تو اُن سے تجاوز کیا جائے نہ آگے بڑھا جائے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: Q312]
حدیث نمبر: 312
أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، قَالا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، نا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنُ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ إِمَّا قُبْلَةً، أَوْ مَسًّا بَيْدٍ، أَوْ شَيْئًا كَأَنَّهُ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ، إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ، ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: أَلِي هَذِهِ؟ قَالَ:" هِيَ لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي" . قَالَ: وَحَدَّثَنَاهُ الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدَ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ التَّمِيمِيُّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، فَقَالَ: أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً، وَلَمْ يَشُكَّ، وَلَمْ يَقُلْ كَأَنَّهُ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اُس نے بتایا کہ اُس نے کسی عورت کا بوسہ لیا ہے یا ہاتھ سے اُسے چُھوا ہے یا کچھ اور کام کیا ہے۔ گویا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا کفّارہ پوچھ رہا تھا۔ کہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی «وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّاكِرِينَ» [ سورة هود ] ”دن کے دونوں سروں اور رات کی گھڑیوں میں نماز قائم کرو۔ یقیناًً ً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے۔“ کہتے ہیں کہ اُس شخص نے پوچھا، کیا یہ صرف میرے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے ہر اُمّتی کے لئے ہے جو اس پر عمل کرے۔“ امام ابوبکر رحمہ اللہ نے سلیمان تمیمی کی سند سے مذکورہ بالا روایت ہی کی طرح روایت بیان کی ہے۔ اس میں ہے اُس نے ایک عورت کا بوسہ لیا ہے اس میں شک کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ اور نہ یہ الفاظ روایت کیے ہیں کہ گویا کہ وہ اس کا کفّارہ پوچھ رہا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 312]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 526، 4687، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2763، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 312، 313، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1728، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4468، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3112، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1398، 4254، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1102، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17179، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3727»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 312 in Urdu
يزيد بن زريع العيشي ← سليمان بن طرخان التيمي