صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
240. (7) باب فى فضائل الصلوات الخمس.
نماز پنجگانہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 311
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ بِالإِسْكَنْدَرِيَّةِ، نا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ وَهُوَ شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، وَأُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، قَالَ:" هَلْ تَوَضَّأْتَ حِينَ أَقْبَلْتَ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبْ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ عَفَا عَنْكَ"
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہُوا تو اس نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، میں نے حد کا ارتکاب کیا ہے تو مُجھ پر حد قائم کردیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے منہ پھیرلیا۔ اور (پھر) نماز کھڑی ہو گئی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی، پھر جب سلام پھیرا تو اُس شخص نے کہا کہ اے اللہ کے رسول، میں نے حد کا ارتکاب کیا ہے تو مجھ پر قائم فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم آئے تھے تو کیا وضو کیا تھا؟“ اُس نے کہا کہ ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ (چلے جاؤ) بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 311]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2765، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 311، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7272، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4381، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22593»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 311 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 311
فوائد:
➊ اکثر علماء کا موقف ہے کہ نماز کبیرہ گناہوں کے بجائے صغیرہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہے، اسی طرح وضو سے بھی صغیرہ گناہ مٹتے ہیں لیکن وضو کی نسبت نماز سے صغیرہ گناہ زیادہ محو ہوتے ہیں۔ [فتح الباري لابن رجب: 16/4]
➋ ◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان احادیث میں تصریح ہے کہ نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں، پھر علماء کا یہاں ”حسنات“ کی تعیین میں اختلاف ہے۔ چنانچہ بعض نے اکثر مفسرین سے نقل کیا ہے کہ وہ اس آیت ﴿إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾ ”بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔“ [سورة هود: 114] میں حسنات سے مراد نمازِ پنجگانہ لیتے ہیں۔ ابن جریر اور دیگر ائمہ مفسرین نے اسی تفسیر کو ترجیح دی ہے۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 78/17]
➌ «أَصَبْتُ حَدًّا» سے مراد ہے کہ وہ ایسی معصیت کا مرتکب ٹھہرا ہے جو موجبِ تعزیر ہے اور ایسی معصیت صغیرہ گناہ ہے کیونکہ نماز اس کا کفارہ بنی ہے۔ اور اگر وہ کبیرہ گناہ ہوتا، خواہ اس پر حد قائم ہوتی یا ساقط، وہ نماز سے محو نہ ہوتا، چنانچہ علماء کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ حدود کو واجب کرنے والی معصیات کی حدود نماز سے ساقط نہیں ہوتیں (بلکہ اس صورت میں حدود کا نفاذ ضروری ہے)، یہی راجح مفہوم ہے۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 80/17]
➊ اکثر علماء کا موقف ہے کہ نماز کبیرہ گناہوں کے بجائے صغیرہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہے، اسی طرح وضو سے بھی صغیرہ گناہ مٹتے ہیں لیکن وضو کی نسبت نماز سے صغیرہ گناہ زیادہ محو ہوتے ہیں۔ [فتح الباري لابن رجب: 16/4]
➋ ◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان احادیث میں تصریح ہے کہ نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں، پھر علماء کا یہاں ”حسنات“ کی تعیین میں اختلاف ہے۔ چنانچہ بعض نے اکثر مفسرین سے نقل کیا ہے کہ وہ اس آیت ﴿إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾ ”بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔“ [سورة هود: 114] میں حسنات سے مراد نمازِ پنجگانہ لیتے ہیں۔ ابن جریر اور دیگر ائمہ مفسرین نے اسی تفسیر کو ترجیح دی ہے۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 78/17]
➌ «أَصَبْتُ حَدًّا» سے مراد ہے کہ وہ ایسی معصیت کا مرتکب ٹھہرا ہے جو موجبِ تعزیر ہے اور ایسی معصیت صغیرہ گناہ ہے کیونکہ نماز اس کا کفارہ بنی ہے۔ اور اگر وہ کبیرہ گناہ ہوتا، خواہ اس پر حد قائم ہوتی یا ساقط، وہ نماز سے محو نہ ہوتا، چنانچہ علماء کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ حدود کو واجب کرنے والی معصیات کی حدود نماز سے ساقط نہیں ہوتیں (بلکہ اس صورت میں حدود کا نفاذ ضروری ہے)، یہی راجح مفہوم ہے۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 80/17]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 311]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 311 in Urdu
شداد بن عبد الله القرشي ← صدي بن عجلان الباهلي