صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
244. (11) باب فضل صلاة الصبح وصلاة العصر.
صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت
حدیث نمبر: 317
نا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نا إِسْمَاعِيلُ ، نا قَيْسٌ ، قَالَ: قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لا تُغْلَبُوا عَلَى صَلاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا"
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم طاقت رکھو کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے کی نماز (نماز فجر) اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز (نماز عصر) سے مغلوب نہ ہوجاؤ۔ (تو اُنہیں بروقت ضرور ادا کر لینا۔)“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 317]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 554، 573، 4851، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 633، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 317، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7442، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4729، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2551، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 177، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1712، 2216، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19497»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 317 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 317
فوائد:
➊ ان احادیث میں نماز فجر اور نماز عصر کی فضیلت و عظمت کا بیان ہے کہ ان نمازوں میں دن رات کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں، نیز یہ اوقات انتہائی بابرکت ہیں کہ ان اوقات کی قدر کرنے والا اور ان نمازوں کا خاص اہتمام کرنے والا گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے اور جنت کا وارث ٹھہرتا ہے۔
➋ ◈ حافظ ابن حجر بیان کرتے ہیں ان (احادیث) میں اشارہ ہے کہ یہ دونوں نمازیں (نماز فجر و عصر) انتہائی عظمت کی حامل نمازیں ہیں کیونکہ ان نمازوں میں فرشتوں کے دونوں گروہ حاضر ہوتے ہیں، جبکہ دیگر نمازوں میں فرشتوں کے ایک گروہ کی حاضری ہوتی ہے۔ نیز ان احادیث میں فجر اور عصر کے وقت کی عظمت کا بیان ہے اور احادیث میں یہ وارد ہے کہ نماز فجر کے بعد رزق کی تقسیم ہوتی ہے اور دن کے آخری وقت میں اعمال بلند کیے جاتے ہیں، چنانچہ جو شخص ان اوقات میں طاعت و عبادت میں مشغول ہو اس کے رزق و عمل میں برکت ڈال دی جاتی ہے۔ [فتح الباري: 50/2]
➊ ان احادیث میں نماز فجر اور نماز عصر کی فضیلت و عظمت کا بیان ہے کہ ان نمازوں میں دن رات کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں، نیز یہ اوقات انتہائی بابرکت ہیں کہ ان اوقات کی قدر کرنے والا اور ان نمازوں کا خاص اہتمام کرنے والا گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے اور جنت کا وارث ٹھہرتا ہے۔
➋ ◈ حافظ ابن حجر بیان کرتے ہیں ان (احادیث) میں اشارہ ہے کہ یہ دونوں نمازیں (نماز فجر و عصر) انتہائی عظمت کی حامل نمازیں ہیں کیونکہ ان نمازوں میں فرشتوں کے دونوں گروہ حاضر ہوتے ہیں، جبکہ دیگر نمازوں میں فرشتوں کے ایک گروہ کی حاضری ہوتی ہے۔ نیز ان احادیث میں فجر اور عصر کے وقت کی عظمت کا بیان ہے اور احادیث میں یہ وارد ہے کہ نماز فجر کے بعد رزق کی تقسیم ہوتی ہے اور دن کے آخری وقت میں اعمال بلند کیے جاتے ہیں، چنانچہ جو شخص ان اوقات میں طاعت و عبادت میں مشغول ہو اس کے رزق و عمل میں برکت ڈال دی جاتی ہے۔ [فتح الباري: 50/2]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 317]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 317 in Urdu
قيس بن أبي حازم البجلي ← جرير بن عبد الله البجلي