صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. (28) باب ذكر الدليل على أن وطء الأنجاس لا يوجب الوضوء
اس بات کی دلیل کا بیان کہ گندگی روندنا وضو کو واجب نہیں کرتا
حدیث نمبر: 37
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَبْدُ الْجَبَّارِ: قَالَ الأَعْمَشُ، وَقَالَ الآخَرَانِ: عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلا نَتَوَضَّأُ مِنْ مَوْطِئٍ" ، وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ:" كُنَّا نَتَوَضَّأُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا نَتَوَضَّأُ مِنْ مَوْطِئٍ"، وَقَالَ الزُّهْرِيُّ:" كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلا نَتَوَضَّأُ مِنْ مَوْطِئٍ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ لَهُ عِلَّةٌ لَمْ يَسْمَعْهُ الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، لَمْ أَكُنْ فَهِمْتُهُ فِي الْوَقْتِ. ثنا حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ،" كُنَّا لا نَكُفُّ شَعْرًا وَلا ثَوْبًا فِي الصَّلاةِ، وَلا نَتَوَضَّأُ مِنْ مَوْطِئٍ" . حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، أَوْ حَدَّثْتُ عَنْهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، بِنَحْوِهِ.
سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے اور گندگی کو روندنے سے وضو نہیں کرتے تھے۔ مخزومی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وضو کیا کرتے تھے لیکن گندگی روندنے سے (دوبارہ) وضو نہیں کرتے تھے۔ زُبری کی روایت میں ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے تو گندگی روندنےسےوضو نہیں کرتےتھے۔ اما م ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں ایک علت ہے، (وہ یہ کہ) اعمش نےیہ حدیث شقیق سے نہیں سنی، میں اسے بروقت سمجھ نہ سکا، (یعنی بوقت روایت یہ علت مجھ سے مخفی رہی) سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ہی سے دوسری روایت ہے کہ الفاظ اس طرح ہیں کہ ہم نماز میں بالوں اور کپڑوں کو اکٹھا نہیں کیا کرتے تھے (ان کو سنبھالتے نہ تھے بلکہ سجدے کے دوران زمین پر لگنے دیتے تھے) اور نہ گندگی روندنے کے بعد وضو کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال اللواتي لا توجب الوضوء/حدیث: 37]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 37، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 484، وأبو داود فى (سننه) برقم: 204، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1041، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 670، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 625، 8136»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 37 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 37
فوائد:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ دوران نماز بال اور کپڑا نہیں لپیٹنا چاہیے، نیز جوتا وغیرہ کو گندگی لگنے سے وضو نہیں ٹوٹتا، بلکہ اس نجاست کو زائل کر کے نماز پڑھنا مباح ہے اور اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
یہ احادیث دلیل ہیں کہ دوران نماز بال اور کپڑا نہیں لپیٹنا چاہیے، نیز جوتا وغیرہ کو گندگی لگنے سے وضو نہیں ٹوٹتا، بلکہ اس نجاست کو زائل کر کے نماز پڑھنا مباح ہے اور اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 37]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 37 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود