صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
282. (49) بَابُ الْأَمْرِ بِالْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ فِي السَّفَرِ، وَإِنْ كَانَا اثْنَيْنِ لَا أَكْثَرَ
سفر میں اذان اور اقامت کہنے کا حکم ہے اگرچہ دوافراد ہوں، زیادہ نہ ہوں
حدیث نمبر: Q395
بِذِكْرِ خَبَرٍ لَفْظُهُ عَامٌّ مُرَادُهُ خَاصٌّ
اس سلسلے میں اس حدیث کا بیان جس کے الفاظ عام ہیں اور اس کی مراد خاص ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: Q395]
حدیث نمبر: 395
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، نا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، نا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَرَجُلٌ، فَوَدَّعَنَا، ثُمَّ قَالَ: " إِذَا سَافَرْتُمَا وَحَضَرَتِ الصَّلاةُ، فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا" . قَالَ الْحَذَّاءُ: وَكَانَا مُتَقَارِبَيْنِ فِي الْقِرَاءَةِ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور ایک اور آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رخصت کیا تو فرمایا: ”جب تم دونوں سفر کرو اور نماز کا وقت ہو جائے تو اذان کہنا اور اقامت کہنا اور تم دونوں میں جو بڑا ہو اُسے تمہاری امامت کروانی چاہیے۔“ خالد حذاء کہتے ہیں کہ ہم دونوں قرآن مجید کی قرأت میں برابر تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 395]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 628، 630، 631، 658، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 674، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 395، 396، 397، 398، 586، 1510، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1658، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 633، وأبو داود فى (سننه) برقم: 589، والترمذي فى (جامعه) برقم: 205، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 979، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1838، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1068، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15838»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 395 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 395
فوائد:
➊ ان احادیث کی رو سے مسافروں کے لیے حالتِ سفر میں اذان کہنا اور نماز باجماعت کا اہتمام کرنا مشروع فعل ہے۔
➋ ان احادیث میں سفر و حضر میں اذان کی محافظت کی ترغیب ہے۔
➌ امام اور مقتدی (دو آدمیوں) کی جماعت درست ہے اور اسی مسئلہ پر اہل اسلام کا اجماع ہے۔
➍ اول وقت پر نماز پڑھنا افضل ہے۔ [شرح النووي: 174/5]
➎ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز کے لیے اذان کہنا واجب ہے۔ ◈ عطاء، احمد بن حنبل، مالک، اسحاق، مجاہد، اوزاعی اور داؤد ظاہری رحمہم اللہ بھی وجوب ہی کے قائل ہیں۔ [نیل الأوطار: 33/1]
➊ ان احادیث کی رو سے مسافروں کے لیے حالتِ سفر میں اذان کہنا اور نماز باجماعت کا اہتمام کرنا مشروع فعل ہے۔
➋ ان احادیث میں سفر و حضر میں اذان کی محافظت کی ترغیب ہے۔
➌ امام اور مقتدی (دو آدمیوں) کی جماعت درست ہے اور اسی مسئلہ پر اہل اسلام کا اجماع ہے۔
➍ اول وقت پر نماز پڑھنا افضل ہے۔ [شرح النووي: 174/5]
➎ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز کے لیے اذان کہنا واجب ہے۔ ◈ عطاء، احمد بن حنبل، مالک، اسحاق، مجاہد، اوزاعی اور داؤد ظاہری رحمہم اللہ بھی وجوب ہی کے قائل ہیں۔ [نیل الأوطار: 33/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 395]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 395 in Urdu
عبد الله بن زيد الجرمي ← مالك بن الحويرث الليثي