صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
297. (64) باب الزجر عن أخذ الأجر على الأذان
اذان پڑھنے کی اُجرت لینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 423
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا هِشَامُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نا حَمَّادٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي الْقُرْآنَ وَاجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي، قَالَ: فَقَالَ:" اقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا" . نا بُنْدَارٌ ، نا أَبُو النُّعْمَانِ ، نا حَمَّادٌ ، نا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي الْعَلاءِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَقُلْ: عَلِّمْنِي الْقُرْآنَ، وَقَالَ: قَالَ:" أَنْتَ إِمَامُهُمْ وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ"
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں، میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، مجھے قرآن مجید سکھا دیں اور مجھے میری قوم کا امام مقرر کر دیں۔ وہ کہتے ہیں، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(تو اُن کا امام ہے) ان کے کمزور و ناتواں شخص کا خیال کر کے جماعت کرانا، اور مؤذن ایسے شخص کو مقرر کرنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے۔“ یزید ابوالعلاء سے بھی مذکورہ بالا روایت کی طرح مروی ہے لیکن ان کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ مجھے قرآن مجید سکھا دیں اور وہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(بلکہ) تو اُن کا امام ہے۔ اور اُن سے کمزور شخص کا خیال کر کے قرأت کرنا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 423]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 468، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 423، 1608، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 727، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 671، وأبو داود فى (سننه) برقم: 531، والترمذي فى (جامعه) برقم: 209، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 714، 987، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2050، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16528»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 423 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 423
فوائد:
➊ یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ اذان کی اجرت لینا مکروہ فعل ہے۔ [تحفة الأحوذي: 448/1]
➋ ◈ خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اکثر علماء کا مذہب ہے کہ مؤذن کا اذان پر اجرت لینا مکروہ عمل ہے۔ [عون المعبود: 164/2]
البتہ اگر مؤذن کا کوئی اور ذریعہ معاش نہ ہو تو بلا مطالبہ و بلا شرط مؤذن کو اجرت اور وظیفہ دینے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
➊ یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ اذان کی اجرت لینا مکروہ فعل ہے۔ [تحفة الأحوذي: 448/1]
➋ ◈ خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اکثر علماء کا مذہب ہے کہ مؤذن کا اذان پر اجرت لینا مکروہ عمل ہے۔ [عون المعبود: 164/2]
البتہ اگر مؤذن کا کوئی اور ذریعہ معاش نہ ہو تو بلا مطالبہ و بلا شرط مؤذن کو اجرت اور وظیفہ دینے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 423]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 423 in Urdu
سعيد بن إياس الجريري ← يزيد بن عبد الله العامري