صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
302. (69) باب ذكر الدليل على أن القبلة إنما هي الكعبة لا جميع المسجد الحرام،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ قبلہ صرف کعبہ شریف ہے، پوری مسجد قبلہ نہیں ہے
حدیث نمبر: 434
نَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ أَشْهُرًا، فَبَيْنَمَا هُوَ ذَاتَ يَوْمٍ يُصَلِّي الظُّهْرَ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ إِذْ صُرِفَ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَقَالَ السُّفَهَاءُ: مَا وَلاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا سورة البقرة آية 142"
حضرت ثابت رحمہ اللہ کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بیان کردہ روایت میں ہے کہ خبردار، قبلہ کعبہ شریف کی طرف تبدیل کر دیا گیا ہے۔ عثمان بن سعد الکاتب نے بھی سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اسی طر ح بیان کیا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ شریف کی طرف پھیردیا گیا۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں ادا کیں پھر اس دوران ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھ لیں تھیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ شریف کی طرف پھیر دیا گیا، تو کم عقل لوگوں نے کہا کہ «مَا وَلَّاهُمْ عَن قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا» ”یہ لوگ جس قبلہ پر تھے، انہیں اس سے کس چیز نے ہٹایا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 434]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
عثمان بن سعد التميمي ← أنس بن مالك الأنصاري