صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
319. (86) باب ذكر سؤال العبد ربه- عز وجل- من فضله بين التكبير والقراءة فى صلاة الفريضة ضد قول من زعم أن الدعاء بما ليس فى القرآن يفسد صلاة الفريضة.
فرض نماز میں تکبیر اور قرأت کے درمیان بندے کا اپنے رب تعالیٰ سے اس کے فضل وکرم کے سوال کرنے کا بیان، ان لوگوں کے دعوے کے خلاف جو کہتے ہیں کہ غیر قرآنی دعا فرض نماز کو فاسد کردیتی ہے
حدیث نمبر: 473
نا بُنْدَارٌ ، نا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" ثَلاثٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلَهُنَّ، تَرَكَهُنَّ النَّاسُ، كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا، وَكَانَ يَقِفُ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ هُنَيَّةً يَسْأَلُ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ، وَكَانَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ" . قَالَ بُنْدَارٌ فِي حَدِيثِهِ: ثَلاثٌ كَانَ يَعْمَلُ بِهِنَّ، تَرَكَهُنَّ النَّاسُ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا، وَكَانَ يَقِفُ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ هُنَيَّةً، يَقُولُ:" أَسْأَلُ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ"، وَكَانَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَكَعَ وَوَضَعَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین کا م کیا کرتے تھے، جنہیں لو گوں نے ترک کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑ ے ہو تے تو ا پنے دونوں ہاتھ کھول کر بلند کرتے، اور قراءت سے پہلے کچھ دیر کھڑے ہوکر اللہ تعالیٰ سے اُس کے فضل وکرم کا سوال کرتے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر (رُکوع یا سجدے کے لئے) جُھکتے اور اُٹھتے وقت تکبیر کہتے تھے۔ بندار نے اپنی روایت میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین چیزوں پر عمل کرتے تھے جنہیں لوگوں نے چھوڑ دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلاتے ہوئے بلند کرتے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قراءت سے پہلے تھوڑی دیرکھڑے رہتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے (میں اسی اثناء میں) اللہ تعالیٰ سے اُس کے فضل وکرم کا سوال کر تا ہوں، آور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی رُکوع کرتے اور جُھکتے تو تکبیر کہتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 473]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 458، 459، 460، 473، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1769، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 786، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 882، وأبو داود فى (سننه) برقم: 753، والترمذي فى (جامعه) برقم: 239، 240، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1273، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2353، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8997»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 473 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 473
فوائد:
◄ اس حدیث کی وضاحت حدیث 464 کے ضمن میں گزر چکی ہے۔
◄ اس حدیث کی وضاحت حدیث 464 کے ضمن میں گزر چکی ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 473]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 473 in Urdu
سعيد بن سمعان الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي