صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
328. (95) باب إيجاب القراءة فى الصلاة بفاتحة الكتاب ونفي الصلاة بغير قراءتها.
نماز میں سورۃ فاتحہ کی قرأت کرنا واجب ہے، اور اس کی قرأت کے بغیر نماز نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 488
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْقُرَشِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا صَلاةَ لِمَنْ لا يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ" . هَذَا حَدِيثُ الْمَخْزُومِيِّ، وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ: يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ، وَقَالَ أَحْمَدُ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ: عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رِوَايَةً، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ: لا صَلاةَ إِلا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورۂ فاتحہ کی قراءت نہیں کرتا۔“ یہ مخزومی کی روایت ہے۔ حسن بن محمد اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ یہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع بیان کرتے ہیں۔ جناب احمد اور عبدالجبار سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے «عن» کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ جبکہ محمد بن الولید کی روایت میں یہ ہے کہ ”سورۃ فاتحہ کی قراءت کے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 488]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 756، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 394، وابن الجارود فى "المنتقى"، 206، 351، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 488، 1581، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1782، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 876، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 909، وأبو داود فى (سننه) برقم: 822، 823، والترمذي فى (جامعه) برقم: 247، 311، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 837، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2401، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1213، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23111»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 488 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 488
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز کی ہر رکعت میں امام و ماموم (ہر نمازی) پر سورہ فاتحہ کی قراءت واجب اور صحت نماز کی شرط ہے کہ سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بغیر نماز نہیں ہوتی کیونکہ لا صلاة میں لاۓ نفی جنس یا کم از کم نفی صحت ہے۔ نیز لفظ حداج: اونٹنی کا وہ بچہ جو حمل کے ایام پورا ہونے سے پہلے ضائع کر دے۔ صریح نص ہے کہ سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بغیر پڑھی ہوئی نماز بے سود اور ناقابل اعتبار ہے۔
➋ ◈ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: (یہ احادیث دلیل ہیں کہ) نماز میں سورہ فاتحہ کی قراءت واجب ہے اور معذور شخص کے سوا کسی اور سورت کی تلاوت یا ذکر (صحت نماز کے لیے) ناکافی ہے۔ مالک، شافعی اور جمہور علماء کا یہی موقف ہے اور ابوحنیفہ سمیت کچھ لوگوں کا مذہب ہے کہ سورہ فاتحہ کی تلاوت واجب نہیں۔ [صحيح مسلم بشرح النووي: 101/4]
◈ اس بحث کے آخر میں امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ جمہور علماء کا موقف کہ نماز کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کی قراءت واجب ہے راجح ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتی شخص کو تلقین کی تھی کہ تمام نماز (یعنی ہر رکعت) میں اجمال (سورہ فاتحہ کی قراءت سمیت دیگر ارکان نماز) کی پابندی کر۔ [صحيح مسلم بشرح النووي: 102/4]
➌ ◈ عبدالرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: احادیث الباب کا حاصل یہ ہے کہ ان احادیث سے جمہور علماء کا یہ استدلال کرنا کہ سورہ فاتحہ کی تلاوت نماز کا رکن ہے، صحیح ہے اس موقف پر کوئی غبار نہیں اور موقف راجح ہے۔ [تحفة الأحوذي: 45/2]
➍ ◈ امام شوکانی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ سورہ فاتحہ کی تلاوت نماز میں واجب ہی نہیں بلکہ صحت نماز کی شرط بھی ہے، کیونکہ سورہ فاتحہ کی عدم تلاوت سے نماز کا عدم لازم آتا ہے اور شرط کی یہی خاصیت ہوتی ہے۔ [نيل الأوطار: 217/2]
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز کی ہر رکعت میں امام و ماموم (ہر نمازی) پر سورہ فاتحہ کی قراءت واجب اور صحت نماز کی شرط ہے کہ سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بغیر نماز نہیں ہوتی کیونکہ لا صلاة میں لاۓ نفی جنس یا کم از کم نفی صحت ہے۔ نیز لفظ حداج: اونٹنی کا وہ بچہ جو حمل کے ایام پورا ہونے سے پہلے ضائع کر دے۔ صریح نص ہے کہ سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بغیر پڑھی ہوئی نماز بے سود اور ناقابل اعتبار ہے۔
➋ ◈ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: (یہ احادیث دلیل ہیں کہ) نماز میں سورہ فاتحہ کی قراءت واجب ہے اور معذور شخص کے سوا کسی اور سورت کی تلاوت یا ذکر (صحت نماز کے لیے) ناکافی ہے۔ مالک، شافعی اور جمہور علماء کا یہی موقف ہے اور ابوحنیفہ سمیت کچھ لوگوں کا مذہب ہے کہ سورہ فاتحہ کی تلاوت واجب نہیں۔ [صحيح مسلم بشرح النووي: 101/4]
◈ اس بحث کے آخر میں امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ جمہور علماء کا موقف کہ نماز کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کی قراءت واجب ہے راجح ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتی شخص کو تلقین کی تھی کہ تمام نماز (یعنی ہر رکعت) میں اجمال (سورہ فاتحہ کی قراءت سمیت دیگر ارکان نماز) کی پابندی کر۔ [صحيح مسلم بشرح النووي: 102/4]
➌ ◈ عبدالرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: احادیث الباب کا حاصل یہ ہے کہ ان احادیث سے جمہور علماء کا یہ استدلال کرنا کہ سورہ فاتحہ کی تلاوت نماز کا رکن ہے، صحیح ہے اس موقف پر کوئی غبار نہیں اور موقف راجح ہے۔ [تحفة الأحوذي: 45/2]
➍ ◈ امام شوکانی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ سورہ فاتحہ کی تلاوت نماز میں واجب ہی نہیں بلکہ صحت نماز کی شرط بھی ہے، کیونکہ سورہ فاتحہ کی عدم تلاوت سے نماز کا عدم لازم آتا ہے اور شرط کی یہی خاصیت ہوتی ہے۔ [نيل الأوطار: 217/2]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 488]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 488 in Urdu
محمود بن الربيع الخزرجي ← عبادة بن الصامت الأنصاري